کھٹمنڈو/لہاسا: نیپال اور چین کے تبت خودمختار خطے میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب، برفانی تودے اور ملبے کے بہاؤ کے بعد ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 4 ستمبر کو جاری تازہ نیپالی اور چینی سرکاری اعداد کو جمع کرنے پر کم از کم 1,318 افراد کی موت کی اطلاع ملتی ہے، جبکہ 5,614 افراد لاپتا بتائے گئے ہیں۔ یہ مشترکہ مجموعہ دونوں ممالک کے الگ الگ اداروں کی جاری کردہ گنتی پر مبنی ہے اور تلاش، شناخت اور ریکارڈ کی درجہ بندی بدلنے کے ساتھ اس میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔

نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک میں 1,287 افراد ہلاک اور 5,083 لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں 583 غیر ملکی شہری بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ آفت نے راسووا، نوواکٹ، دھادنگ، کاورے اور کھٹمنڈو وادی سمیت متعدد علاقوں کو متاثر کیا، سڑکیں اور پل بہا دیے اور پن بجلی کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا۔ حکام نے دریائے چولانی کے بعض حصوں میں ملبے سے پانی کا بہاؤ رکنے یا محدود ہونے پر زیریں آبادیوں کے لیے اضافی خطرے کی وارننگ بھی جاری کی۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے تبت میں 31 ہلاکتوں اور 531 لاپتا افراد کی تازہ تعداد رپورٹ کی ہے۔ سرحدی علاقے گییرونگ اور نیپال کی جانب جانے والے راستوں میں مواصلاتی نظام اور زمینی رابطہ متاثر ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو کئی مقامات تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ بعض ابتدائی رپورٹوں میں چینی ہلاکتوں اور لاپتا افراد کے اعداد مختلف تھے؛ تازہ مجموعی شمار کے لیے 4 ستمبر کی سرکاری اپ ڈیٹ استعمال کی گئی ہے، نہ کہ پہلے کے عارضی اعداد۔

حکام اور ماہرین نے ابتدائی طور پر واقعے کو ماؤنٹ لانگ ٹانگ لیرونگ کے قریب تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر برفانی تودہ ٹوٹنے، برف اور چٹانوں کے بڑے حجم کے نیچے آنے اور اس کے بعد ملبے کے تیز بہاؤ سے جوڑا ہے۔ اس سلسلے نے دریاؤں میں اچانک پانی اور ملبے کا دباؤ بڑھایا، مگر آفت کے مکمل سائنسی اسباب، موسمی عوامل اور گلیشیئر کے رویے کی تفصیلی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ اس لیے کسی ایک عنصر کو حتمی اور واحد وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

امدادی کارروائیوں میں ایک غیر معمولی پیش رفت اس وقت ہوئی جب اپر تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ سے دو کارکن نو روز بعد زندہ نکال لیے گئے۔ ریسکیو اہلکار سرنگوں، ملبے اور منقطع علاقوں میں مزید افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نیپالی حکام کے مطابق متاثرہ خطے میں کم از کم چھ پن بجلی منصوبوں کو براہِ راست نقصان پہنچا اور مختلف تنصیبات سے سینکڑوں کارکنوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ہر لاپتا فرد کو ہلاک شمار نہیں کیا گیا؛ حتمی حیثیت صرف شناخت، بازیابی یا اہل خانہ اور حکام کی تصدیق کے بعد طے ہوگی۔

نیپال میں ابتدائی نقصان کا تخمینہ 387 ارب 50 کروڑ نیپالی روپے، یعنی تقریباً 2 ارب 56 کروڑ ڈالر، بتایا گیا ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق تقریباً 7,500 مکانات مکمل تباہ اور 20,000 سے زیادہ گھروں کو دوبارہ تعمیر یا بڑی مرمت درکار ہو سکتی ہے۔ یہ ابتدائی تخمینے ہیں اور دور دراز علاقوں تک رسائی بحال ہونے کے بعد مالی نقصان بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نیپالی سفارت خانے میں تعزیتی کتاب پر دستخط کیے اور امداد کی پیش کش کی۔

دونوں ملکوں میں موجودہ ترجیح زندہ افراد کی تلاش، زخمیوں کی منتقلی، عارضی رہائش، صاف پانی اور متاثرہ بجلی و سڑک رابطوں کی بحالی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر لاپتا افراد کے باعث مصدقہ تعداد روزانہ بدل سکتی ہے؛ اس خبر میں بیان کردہ 1,318 ہلاکتیں اور 5,614 لاپتا افراد 4 ستمبر کی دستیاب مشترکہ گنتی ہیں، حتمی شمار نہیں۔