اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بالائی خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کے باعث اگلے 72 گھنٹوں کے دوران فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے بہاؤ کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ انتباہ 3 ستمبر 2026 کو جاری ہوا، اس لیے اس کی بنیادی مدت تقریباً 6 ستمبر تک بنتی ہے، تاہم مقامی حالات کے لیے تازہ سرکاری اپ ڈیٹ کو ترجیح دینا ضروری ہوگا۔
این ای او سی کے مطابق پہاڑی علاقوں میں تیز بارش سے دریاؤں، برساتی نالوں اور چھوٹی آبی گزرگاہوں کی سطح اچانک بڑھ سکتی ہے۔ گلگت بلتستان میں گلگت، دیامر، غذر، ہنزہ، استور، اسکردو اور شگر کو ممکنہ اچانک سیلاب کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا۔ بلند ڈھلوانوں اور کمزور زمینی حصوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور debris flow سڑکوں، پلوں اور آبادیوں تک رسائی متاثر کر سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں باغ، پونچھ، مظفرآباد، حویلی، بھمبر، سدھنوتی، میرپور اور کوٹلی کے لیے احتیاط کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان اضلاع میں چھوٹے ندی نالوں کے قریب آباد علاقوں، نشیبی مقامات اور پہاڑی سڑکوں کو زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔ بارش کے دوران مقامی انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی شاہراہ یا پل استعمال نہ کرنے اور دریائی گزرگاہوں سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا میں چترال، دیر، سوات، باجوڑ، مہمند، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور ممکنہ فلیش فلڈ کی زد میں آ سکتے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے نوشہرہ، پشاور، صوابی اور مردان کے نشیبی شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے اور شہری سیلاب کا خدشہ بھی ظاہر کیا، جہاں نکاسی آب کے نظام پر قلیل وقت میں شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
مرکز نے دریائے سندھ، کابل، سوات، پنجکوڑہ، کرم، توچی، جہلم، چناب اور راوی میں بہاؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ بہاؤ میں اضافہ ہر مقام پر خطرے کی یکساں سطح یا لازمی سیلاب کی تصدیق نہیں؛ دریا کی اصل کیفیت بارش کی مقدار، بالائی کیچمنٹ، ڈیم و بیراج انتظام اور مقامی پیمائشی اسٹیشنوں کے تازہ اعداد سے طے ہوگی۔
متعلقہ صوبائی اور ضلعی اداروں کو ہنگامی ٹیمیں، نکاسی آب کی مشینری، رابطہ نظام اور ممکنہ انخلا کے انتظامات تیار رکھنے کا کہا گیا ہے۔ حساس بستیوں میں لوگوں کو مقامی انتباہات سے باخبر رکھنے، سیاحتی راستوں کی نگرانی اور بند سڑکوں کے متبادل انتظام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مسافروں اور سیاحوں کو روانگی سے پہلے موسم اور شاہراہوں کی تازہ صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ اطلاع ایک خطرہ پیش گوئی ہے، کسی مخصوص ضلع میں جانی نقصان یا انفراسٹرکچر تباہی کی تصدیق نہیں۔ شدید بارش مقامی سطح پر بہت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے قومی انتباہ کے ساتھ ضلعی انتظامیہ، محکمہ موسمیات، ریسکیو اداروں اور شاہراہ حکام کی تازہ ہدایات فیصلہ کن ہوں گی۔ افواہوں یا پرانے سیلابی مناظر کو موجودہ صورتحال سمجھنے کے بجائے وقت اور مقام کے ساتھ جاری سرکاری اطلاع دیکھی جانی چاہیے۔
این ڈی ایم اے نے ہنگامی صورت میں اپنے رابطہ ذرائع اور متعلقہ مقامی کنٹرول روم استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انتباہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے یا بعد میں موسمی نظام کی رفتار بدل سکتی ہے، اس لیے 5 اور 6 ستمبر کے دوران جاری ہونے والی نئی پیش گوئی اور فلڈ بلیٹن سے خطرے کی سطح دوبارہ جانچنا ضروری ہوگا۔




