اسلام آباد میں وزیراعظم کی گلگت بلتستان ترقیاتی کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے 100 میگاواٹ تقسیم شدہ شمسی توانائی منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے اس منصوبے کی لاگت 24.9 ارب روپے ہے اور اس میں مختلف مقامات پر چھتوں اور بڑے پیمانے کے شمسی نظام کے ساتھ ٹرانسمیشن لائنیں اور رسائی سڑکیں شامل ہیں۔ اجلاس نے منصوبے کو خطے میں بجلی کی کمی کم کرنے کی اعلیٰ ترجیح قرار دیا، تاہم پریس ریلیز میں مکمل ہونے کی حتمی تاریخ یا موجودہ جسمانی پیش رفت کا فیصد نہیں دیا گیا۔

منصوبے کے مختلف حصوں کی ذمہ داری وفاقی اور گلگت بلتستان اداروں میں تقسیم ہے۔ بریفنگ کے مطابق علاقائی حکومت کے دائرۂ کار میں آنے والی ٹرانسمیشن سہولت اور رسائی سڑکیں اسے تعمیر کرنا ہیں۔ احسن اقبال نے ہدایت کی کہ شمسی تنصیبات مکمل ہونے کا انتظار کرکے بعد میں سڑک اور ٹرانسمیشن کام شروع نہ کیا جائے، بلکہ تمام حصے ایک ساتھ آگے بڑھیں۔ گلگت بلتستان حکومت کو اپنے حصے کے انفراسٹرکچر پر فوری کارروائی شروع کرنے کا کہا گیا تاکہ کسی ایک جزو کی تاخیر پورے نظام کے استعمال میں رکاوٹ نہ بنے۔

وزیر منصوبہ بندی نے تیسرے فریق سے منصوبے کے معیار اور ضابطہ جاتی تعمیل کی جانچ بھی عمل درآمد کے ساتھ ساتھ جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ آزادانہ توثیق کا مقصد معیار کی نگرانی ہے، مگر اعلامیے میں جانچ کرنے والے ادارے، انتخاب کے طریقے یا رپورٹ عوامی کرنے کی تفصیل موجود نہیں۔ اس لیے فی الحال اسے جاری کردہ انتظامی ہدایت سمجھا جائے گا، مکمل شدہ آڈٹ نہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 10.6 ارب روپے کا نلتر پاور منصوبہ تکمیل کے قریب ہے، جبکہ 12.9 ارب روپے کا ہنزل پاور منصوبہ بھی پیش رفت کے آخری مراحل میں ہے۔ یہ کیفیت اجلاس میں دی گئی سرکاری بریفنگ پر مبنی ہے؛ دونوں منصوبوں کی کمیشننگ، آزمائشی پیداوار یا گرڈ میں مکمل شمولیت کی الگ تصدیق اعلامیے میں نہیں کی گئی۔ شمسی منصوبے سمیت تمام توانائی اقدامات کے اصل اثر کا اندازہ نصب صلاحیت کے ساتھ موسمی پیداوار، ٹرانسمیشن دستیابی اور مسلسل آپریشن سے ہوگا۔

کمیٹی نے گلگت بلتستان میں تیزی سے بڑھتی سیاحت اور نازک ماحول پر اس کے دباؤ کا بھی جائزہ لیا۔ احسن اقبال نے خطے کی سیاحتی برداشت، یعنی ایک مقام کتنے زائرین اور کتنی تعمیر کو ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر سنبھال سکتا ہے، کے لیے جامع مطالعے کی ہدایت کی۔ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان، وزارت موسمیاتی تبدیلی، علاقائی حکومت اور متعلقہ ماہر اداروں پر مشتمل ٹاسک فورس کی تجویز دی گئی۔ سیاحت کے لیے مناسب ٹیکس اور ضابطہ جاتی نظام، غیر منصوبہ بند تعمیر کی حوصلہ شکنی اور اضافی مقامی آمدن کے امکانات بھی زیر بحث آئے، مگر کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا۔

ترقیاتی مالیات کے بارے میں وزیر نے کہا کہ جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں کے لیے تقریباً تین ٹریلین روپے کی ضرورت کے مقابلے میں قریب ایک ٹریلین روپے دستیاب ہیں۔ یہ حکومت کے مجموعی جاری منصوبوں کے مالی دباؤ کی بیان کردہ تصویر ہے اور شمسی منصوبے کے لیے مخصوص فنڈ ریلیز کا عدد نہیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے زیادہ پائیدار مالی بندوبست اور عبوری متبادل طریقوں پر غور کی ضرورت بھی دہرائی۔

متعلقہ وزارتوں اور گلگت بلتستان حکومت کو اجلاس کے فیصلے اور سفارشات دو ہفتوں میں عبوری رپورٹ کی شکل میں مرتب کرنے کی ہدایت دی گئی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 2 ستمبر 2026 کا جائزہ اجلاس، 24.9 ارب روپے کے منصوبے پر تیز اور بیک وقت عمل درآمد کی ہدایات اور آزاد معیار جانچ کا فیصلہ ہے۔ اسے 100 میگاواٹ نئی بجلی کی پہلے سے دستیابی یا منصوبے کی تکمیل قرار نہیں دیا جاسکتا۔