کھٹمنڈو: نیپال میں تباہ کن سیلاب کے دو روز بعد امدادی ٹیموں نے مٹی اور ملبے میں تلاش کا کام جاری رکھا ہوا ہے جبکہ تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 469 ہوگئی ہے۔ ڈان میں 28 اگست کو شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ، جسے صبح 11 بج کر 29 منٹ پر اپ ڈیٹ کیا گیا، کے مطابق نیپال اور سرحد پار تبت میں مجموعی طور پر تقریباً ایک ہزار افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اردو پوائنٹ پر 28 اگست صبح 9 بج کر 12 منٹ کی اے پی پی رپورٹ نے بھی نیپال پولیس کے حوالے سے 469 ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
رائٹرز کے مطابق بدھ کی صبح گلیشیئر کے ٹوٹنے سے چٹانوں، برف، مٹی اور دوسرے ملبے کا بہت بڑا ریلا ہمالیائی دریائی نظام میں داخل ہوا۔ سیلاب نے دیہات اور وادیوں کو متاثر کیا، بجلی گھروں، سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچایا اور کھٹمنڈو کو تبت کے شہر لہاسا سے ملانے والے اس راستے پر تباہی پھیلائی جو سیاحوں، کوہ پیماؤں اور زائرین میں معروف ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی شامل ہیں۔ نیپالی حکام نے کٹے ہوئے قصبوں اور وادیوں میں پھنسے افراد کی تلاش اور ہنگامی سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے، جبکہ بعض امدادی ٹیمیں سراغ رساں کتوں اور بھاری مشینری کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ اردو پوائنٹ کی اے پی پی رپورٹ میں نیپال پولیس کے حوالے سے بتایا گیا کہ جمعہ کی صبح تک 1,545 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جاچکا تھا۔
امدادی کارروائی کے ساتھ ایک اور خطرے کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا کہ بھوٹے کوشی دریا میں ملبہ جمع ہونے سے بننے والی جھیل کی سطح بڑھ رہی ہے اور بند ٹوٹنے کی صورت میں نیا سیلاب آسکتا ہے۔ چینی حکام کے مطابق اگلے تین روز میں تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی پہلے سے بند ایک جھیل میں داخل ہونے کا امکان تھا، جبکہ سرکاری میڈیا نے یکم ستمبر کے قریب بہاؤ عروج پر پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا۔
چین نے رکاوٹی جھیل کا فضائی جائزہ اور تھری ڈی ماڈلنگ کرنے کے لیے آٹھ رکنی انجینئرنگ ٹیم تعینات کی۔ رپورٹ میں ایک انجینئر کے حوالے سے بتایا گیا کہ خطرہ کم کرنے کا عمومی طریقہ بند کے نسبتاً نچلے حصے میں نکاسی کی نالی بنانا ہوسکتا ہے، لیکن اس کی چوڑائی اور گہرائی کا فیصلہ پانی کے بہاؤ اور جھیل بھرنے کی رفتار کے اعداد و شمار کے بعد ہوگا۔ اس مرحلے پر کسی حفاظتی کام کی تکمیل رپورٹ نہیں ہوئی۔
تبت کے گیئرونگ کاؤنٹی میں چینی امدادی کارکنوں کو بدترین متاثرہ سرحدی علاقے تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے حوالے سے رپورٹ میں وہاں 558 افراد کے لاپتا ہونے کا ذکر ہے، جن میں 260 غیر ملکی شامل تھے، جبکہ چینی جانب تین اموات کی تصدیق کی گئی تھی۔ مختلف ملکوں اور علاقوں کے اعداد کو یکجا کرتے وقت ممکنہ تکرار سے بچنا ضروری ہے، اسی لیے 469 کا عدد صرف نیپال میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔
ہلاکتوں اور لاپتا افراد کے اعداد امدادی کارروائی کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ موجودہ خبر 28 اگست کی صبح دستیاب تازہ رپورٹس پر مبنی ہے اور اسے آخری مجموعی تعداد نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ تصدیق شدہ صورتحال یہ ہے کہ نیپال میں 469 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں، تلاش و امداد جاری ہے، ہزاروں متاثرین تک رسائی کی کوشش ہو رہی ہے اور ملبے سے بننے والی جھیل کے ممکنہ ٹوٹنے نے مزید سیلاب کا خطرہ پیدا کردیا ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




