لاہور: پنجاب کے گرین کریڈٹ پروگرام میں رجسٹرڈ شہریوں کی تعداد 142,451 تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 28 اگست کی رپورٹ نے اس عدد کو سرکاری ڈیش بورڈ سے منسوب کیا ہے اور بتایا ہے کہ پروگرام 41 اضلاع تک پھیل چکا ہے۔ پروگرام کا مقصد شہریوں کو مالی مراعات کے ذریعے ماحول دوست سرگرمیوں، آلودگی میں کمی اور وسائل کے بہتر استعمال کی طرف راغب کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں رجسٹریشن 18 فیصد بڑھی اور ایک دن میں 476 صارفین فعال رہے۔ یہ دونوں اعداد ڈیش بورڈ کی سرگرمی کی تصویر پیش کرتے ہیں، مگر صرف اکاؤنٹ بنانے یا آن لائن فعال رہنے سے کسی مخصوص ماحولیاتی کام کی تکمیل ثابت نہیں ہوتی۔ گرین کریڈٹ جاری ہونے کے لیے مانیٹرنگ، رپورٹنگ اور تصدیق کے عمل سے سرگرمی کی جانچ کیے جانے کی بات کی گئی ہے۔
پروگرام کے ٹاسک ٹیم لیڈ ڈاکٹر واجد اعجاز نے بتایا کہ الیکٹرک بائیک یا اسکوٹی خریدنے اور استعمال کرنے پر مجموعی طور پر ایک لاکھ روپے تک گرین کریڈٹ دیا جا سکتا ہے۔ بیان کردہ ترتیب کے مطابق 50 ہزار روپے خریداری کے وقت جبکہ مزید 50 ہزار روپے گاڑی 6 ہزار کلومیٹر چلنے کے بعد مل سکتے ہیں۔ یہ پروگرام کی مقررہ شرائط کا بیان ہے؛ ہر درخواست گزار کی اہلیت، تصدیق اور ادائیگی متعلقہ قواعد پوری ہونے سے مشروط ہوگی۔
پلاسٹک آلودگی کم کرنے کے لیے ایک کلو خالی پلاسٹک بوتلیں جمع کرانے پر 2,500 روپے گرین کریڈٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ چار کلو بوتلیں جمع کرا کر اس مد میں 10 ہزار روپے تک حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لاہور میں پلاسٹک کچرا اور خالی بوتلیں لینے کے لیے دو رجسٹرڈ وینڈر موجود ہیں، جو جمع شدہ مواد کو ری سائیکل کرتے ہیں۔
دیگر سرگرمیوں میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی تصاویر، زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر چلنے والے آلودگی پھیلانے والے اینٹوں کے بھٹوں کی نشاندہی، بارش کے پانی کا استعمال، پانی جذب کرنے والے کنویں، سائیکل چلانا اور دس پودے لگانا شامل بتائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر واجد اعجاز کے مطابق پروگرام میں مجموعی طور پر 38 ماحول دوست اقدامات شامل ہیں، جن کا تعلق فضائی آلودگی، پانی کے تحفظ، پلاسٹک انتظام، شجرکاری اور ماحول دوست طرز زندگی سے ہے۔
ایکسپریس کی رپورٹ میں اب تک 3 کروڑ 65 لاکھ روپے ادائیگی اور گزشتہ تین ماہ میں ایک کروڑ 65 لاکھ روپے جاری ہونے کا عدد دیا گیا ہے۔ اس حساب سے حالیہ تین ماہ کا حصہ مجموعی ادائیگی کا تقریباً 45 فیصد بنتا ہے۔ یہ مجموعی پروگرام اعداد ہیں؛ خبر میں فی سرگرمی منظور شدہ درخواستوں، مسترد دعوؤں یا اوسط ادائیگی کی تفصیل نہیں دی گئی۔
ذریعے میں دو احتیاط طلب اختلاف بھی موجود ہیں۔ رپورٹ ایک طرف پروگرام کے آغاز کا مہینہ دسمبر 2024 بتاتی ہے اور دوسری طرف موجودہ پیش رفت کو 14 ماہ کی مدت قرار دیتی ہے، جو 28 اگست 2026 کی تاریخ سے زمانی طور پر ہم آہنگ نہیں۔ اسی طرح مرد و خواتین کے دیے گئے الگ اعداد کا مجموعہ کل رجسٹریشن سے 50 کم بنتا ہے۔ اس لیے اس خبر میں مدت اور صنفی تقسیم کو حتمی حقیقت کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا؛ واضح سرکاری تصحیح آنے تک مرکزی قابل استعمال اعداد 142,451 رجسٹریشن، 41 اضلاع، 38 سرگرمیاں اور رپورٹ شدہ ادائیگیاں ہیں۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




