اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حکومت کو آئندہ قابل تجدید توانائی نیلامی میں ونڈ اور سولر منصوبوں کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) لازمی قرار دینے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ نیلامی مجموعی طور پر 800 میگاواٹ کی مجوزہ قابل تجدید پیداواری صلاحیت کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔

نیپرا نے متعلقہ وہیلنگ آکشن طریقہ کار میں ترامیم کی منظوری دی ہے، جس کے بعد انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO)، جو پاور ڈویژن کے تحت کام کرتا ہے، پہلے 400 میگاواٹ بلاک کے لیے باقاعدہ درخواستِ تجاویز جاری کر سکے گا۔ رپورٹ کے مطابق پہلے بلاک کی دستاویزات موجودہ ماہ کے دوران جاری کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ نجی شعبے کے ساتھ نیلامی کے شیڈول اور عملی شرائط پر مشاورت جاری ہے۔

بیٹری اسٹوریج کو شامل کرنے کا بنیادی مقصد بجلی کے نظام میں شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی متغیر توانائی کے اثرات کو سنبھالنا ہے۔ دن کے اوقات میں سولر پیداوار بڑھنے اور شام کے وقت اچانک کم ہونے سے طلب اور رسد کے منحنی خطوط میں تیز تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے، جسے توانائی کے شعبے میں عموماً ڈک کرو چیلنج کہا جاتا ہے۔ بیٹریاں اضافی بجلی ذخیرہ کر کے ضرورت کے وقت نظام کو واپس فراہم کر سکتی ہیں اور گرڈ کے توازن میں مدد دے سکتی ہیں۔

حکومت نے جولائی میں یہ پالیسی سمت اختیار کی تھی کہ آئندہ نیلامی میں بولی دہندگان کے لیے BESS شامل کرنا ضروری ہوگا۔ نیپرا کی منظوری سے اب اس شرط کو ریگولیٹری فریم ورک میں جگہ مل گئی ہے۔ منصوبہ ایسے وقت آگے بڑھ رہا ہے جب پاکستان بتدریج مسابقتی بجلی منڈی کی طرف جانے، کم لاگت قابل تجدید توانائی شامل کرنے اور گرڈ کی تکنیکی ضروریات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

800 میگاواٹ کی صلاحیت کو مرحلہ وار نیلام کرنے کا تصور طویل عرصے بعد مسابقتی بنیاد پر نئی پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ تاہم حتمی ٹیرف، سرمایہ کاری لاگت، اسٹوریج کی تکنیکی مدت، بولی دہندگان کی اہلیت اور منصوبوں کے تجارتی آغاز سے متعلق تفصیلات درخواستِ تجاویز اور بعد کے ریگولیٹری مراحل میں واضح ہوں گی۔ نیپرا کی موجودہ منظوری بنیادی طور پر حکومت اور سسٹم آپریٹر کو بیٹری اسٹوریج کی لازمی شرط کے ساتھ نیلامی کا عمل آگے بڑھانے کی اجازت دیتی ہے۔