اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مسابقتی بجلی کی منڈی میں حصہ لینے والے بڑے صارفین کے لیے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو استعمال کرنے کے چارجز باضابطہ طور پر جاری کر دیے ہیں۔ یہ نرخ مختلف صارف زمروں کے لیے الگ الگ مقرر کیے گئے ہیں اور ان کا اطلاق بجلی کے فراہم کنندہ سے خریدار تک قومی گرڈ کے ذریعے بجلی پہنچانے پر ہوگا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق نیپرا کے نوٹیفکیشن میں مسابقتی ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ کے تحت ہونے والی مجوزہ 400 میگاواٹ نیلامی میں شریک صارفین کے لیے نظام استعمال کے چارجز 6 روپے 23 پیسے سے 19 روپے 62 پیسے فی یونٹ کے درمیان رکھے گئے ہیں۔ ان میں ترسیل اور تقسیم کے اخراجات، گرڈ کی مقررہ فیس اور مختلف صارفین کے درمیان سبسڈی کی لاگت شامل ہے۔ یہ رقم بجلی کی اصل خریداری قیمت کے علاوہ ادا کرنا ہوگی، جو خریدار اور نجی بجلی فراہم کنندہ کے درمیان طے پائے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بی تھری صنعتی صارف کے لیے 6 روپے 23 پیسے اور بی فور صنعتی صارف کے لیے 9 روپے 9 پیسے فی یونٹ چارج ہوگا۔ بعض سنگل پوائنٹ ڈسٹری بیوشن صارفین کے نرخ 14 روپے 95 پیسے سے 19 روپے 62 پیسے جبکہ زرعی صارفین کے لیے 6 روپے 72 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔ جو بڑے صارفین مسابقتی نیلامی میں شریک نہیں ہوں گے، ان کے لیے متعلقہ زمروں کے لحاظ سے نظام استعمال کی فیس 19 روپے 17 پیسے سے 32 روپے 56 پیسے فی یونٹ تک رکھی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں بڑے بجلی صارفین کی تعداد تین ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ مسابقتی منڈی کا منصوبہ ان صارفین کو یہ موقع دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ وہ بجلی کی خریداری کے لیے مقررہ قواعد کے تحت مختلف فراہم کنندگان سے معاہدے کر سکیں۔ پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ کی نیلامی متوقع ہے جبکہ حکومت نے مجموعی طور پر 800 میگاواٹ کو دو مراحل میں نیلام کرنے کے لیے مختص کیا ہے۔ اس پورے انتظام کا مقصد بجلی کی تجارت کا ایک نیا طریقہ فعال کرنا ہے۔

نیپرا کے فیصلے میں تقسیم کار کمپنیوں اور کے الیکٹرک کے لیے یکساں بنیادوں پر نرخوں اور نظام میں نقصانات کے حساب کا طریقہ بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق چارجز کی منظوری گزشتہ تاخیر کے بعد منڈی کی عملی شروعات کے لیے اہم مرحلہ ہے۔ تاہم نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ نیلامی مکمل ہو چکی یا تمام صارفین کو فوری طور پر نئی قیمت پر بجلی ملنے لگی ہے۔ حقیقی اثرات کا اندازہ نیلامی کے انعقاد، معاہدوں اور ان پر عمل درآمد کے بعد ہوگا۔