اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے صنعتی سپورٹ پیکیج کے تحت اضافی بجلی کھپت کے لیے 25.30 روپے فی یونٹ کی یکساں مارجنل شرح منظور کی ہے۔ اس فیصلے پر سامنے آنے والی رپورٹنگ کے بعد پاور ڈویژن نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ شرح کو صنعتی صارفین کے عمومی بجلی ٹیرف میں اضافہ سمجھنا درست نہیں اور یہ صرف مقررہ بنیادی کھپت سے زائد استعمال پر لاگو ہونے والی شرح ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق مارچ 2024 کے مقابلے میں صنعتی بجلی کی مجموعی مؤثر لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مارچ 2024 میں صنعتی صارفین کے لیے مجموعی شرح تقریباً 44.24 روپے فی یونٹ تھی، جبکہ اب متعلقہ شرح 25.30 روپے فی یونٹ تک آئی ہے، جسے ڈویژن نے 18.94 روپے فی یونٹ کمی قرار دیا۔ حکومتی موقف کے مطابق صنعتی پیکیج کا مقصد اضافی کھپت کی حوصلہ افزائی، پیداواری صلاحیت کے بہتر استعمال اور بجلی کے نظام میں موجود گنجائش سے فائدہ اٹھانا ہے۔
نیپرا کے فیصلے کے تناظر میں مختلف صنعتی زمروں کے موجودہ نرخ الگ الگ ہیں، اس لیے 25.30 روپے کی شرح کو ہر صنعتی یونٹ کی تمام کھپت پر لاگو بنیادی ٹیرف نہیں سمجھا جا سکتا۔ ریگولیٹری فیصلے کی اصل اہمیت یہ ہے کہ پیکیج کے لیے ایک یکساں مارجنل ریٹ مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت اہل صارف کی بنیادی یا حوالہ جاتی کھپت سے زائد بجلی استعمال کی قیمت طے ہوگی۔ اس نوعیت کے پیکیج کا مالی اثر صارف کی کھپت، اس کے زمرے اور مقررہ حوالہ جاتی مدت پر منحصر ہوگا۔
پاور ڈویژن نے میڈیا میں صنعتی ٹیرف بڑھنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی کا ہدف صنعت کے لیے بجلی کے استعمال کو زیادہ مسابقتی بنانا ہے۔ دوسری جانب ریگولیٹری فیصلوں میں اختلافی آرا اور لاگت کی تقسیم جیسے معاملات بجلی کے شعبے میں اہم رہتے ہیں، کیونکہ کسی رعایتی یا مارجنل نرخ کے اثرات بالآخر نظام کی آمدن، دیگر صارفین اور حکومتی سبسڈی پالیسی سے جڑے ہوتے ہیں۔ حتمی اطلاق نیپرا کے نوٹیفائیڈ فیصلے، حکومتی پالیسی اور متعلقہ تقسیم کار کمپنی کے بلنگ طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔
