اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی برآمدات بڑھانے اور مقامی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کی جامع جدید تشکیل نو کی منظوری دے دی ہے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پیش کیے گئے منصوبے کے مطابق اصلاحاتی عمل مرحلہ وار 12 ماہ میں مکمل کیا جائے گا اور وزیراعظم نے اسے اگلے سال کے وسط تک مکمل طور پر فعال کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکومت کے مطابق اصلاحات کا مقصد ٹی ڈی اے پی کو جدید عالمی تجارتی فروغ کے اداروں کے معیار کے قریب لانا ہے۔ اجلاس میں بین الاقوامی ٹریڈ پروموشن اداروں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ جدید ادارے مقامی مارکیٹ کی ترقی، عالمی منڈی تک رسائی، برآمد کنندگان کی صلاحیت سازی اور تجارت میں توسیع کے لیے مربوط خدمات فراہم کرتے ہیں۔
مجوزہ اصلاحاتی پیکیج میں ٹی ڈی اے پی کے مینڈیٹ کو آٹھ بنیادی افعال تک منظم کرنا، بورڈ اور انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو، علاقائی نیٹ ورک کو مؤثر بنانا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کا استعمال اور قابلِ پیمائش کارکردگی اشاریے متعارف کرانا شامل ہے۔ اس کے ساتھ آزاد تیسرے فریق کے ذریعے کارکردگی کا جائزہ لینے کا نظام بھی تجویز کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے زرعی مصنوعات کی برآمدات کے لیے پوری ویلیو چین پر مشتمل ایک مربوط نظام قائم کرنے کی ہدایت کی۔ اس کا مقصد پیداوار سے لے کر معیار، پیکیجنگ، سرٹیفکیشن، مارکیٹنگ اور بیرونی منڈی تک رسائی کے مراحل کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ مقامی صنعتوں اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو عالمی برآمدی معیارات کے مطابق بنانے کو بھی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
ادارے میں انسانی وسائل سے متعلق بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ وزیراعظم نے تربیت یافتہ افراد کی شفاف اور میرٹ پر بھرتی، پیشہ ورانہ ترقی کو اہداف اور کارکردگی سے منسلک کرنے اور ایک معتبر نجی آڈٹ فرم کے ذریعے ٹی ڈی اے پی کے مالی اور کارکردگی آڈٹ کی ہدایت کی۔ اس سے ادارے کے نتائج کی آزادانہ جانچ اور جواب دہی بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ حکام نے ٹی ڈی اے پی کے موجودہ ڈھانچے اور درپیش مسائل پر بریفنگ دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور برآمدی صلاحیت سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے تجارتی فروغ کے ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ اصلاحات کی کامیابی کا اصل پیمانہ ان کے نفاذ، برآمد کنندگان کو ملنے والی عملی سہولت اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی میں قابلِ پیمائش بہتری ہوگی۔
