اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان میں نقد رقم پر انحصار کم کرنے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال بڑھانے کے لیے کیش لیس معیشت کے قومی روڈ میپ پر عمل درآمد تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد روزمرہ تجارتی لین دین، سرکاری ادائیگیوں اور مالی خدمات میں الیکٹرانک ذرائع کو زیادہ قابل رسائی بنانا ہے۔

کیش لیس معیشت کا تصور مکمل طور پر نقد رقم ختم کرنے کے بجائے ایسے ادائیگی نظام کو فروغ دینا ہے جس میں صارفین اور کاروبار بینک اکاؤنٹس، موبائل والٹس، فوری ادائیگی کے نیٹ ورکس اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے رقم منتقل کر سکیں۔ حکومت اسے مالی شمولیت، دستاویزی معیشت اور ادائیگی کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے سے جوڑ رہی ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے بینکاری ایپس، موبائل والٹس اور اسٹیٹ بینک کے فوری ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے سمیت متعدد ذرائع پہلے سے موجود ہیں۔ قومی روڈ میپ کا بنیادی چیلنج ان سہولتوں کو بڑے شہروں سے باہر، چھوٹے کاروباروں، سرکاری خدمات اور ایسے صارفین تک پہنچانا ہے جو اب بھی زیادہ تر نقد لین دین کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پھیلاؤ کے ساتھ سائبر سکیورٹی، صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ، فراڈ سے بچاؤ اور شکایات کے مؤثر ازالے کی اہمیت بھی بڑھتی ہے۔ کسی بھی بڑے پیمانے کی cashless پالیسی کے لیے صرف ادائیگی کا تکنیکی ذریعہ فراہم کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ صارف کو محفوظ، قابل اعتماد اور آسان نظام دینا بھی ضروری ہے۔ کم ڈیجیٹل خواندگی رکھنے والے شہریوں کے لیے آگاہی اور معاونت بھی اس عمل کا اہم حصہ ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ زیادہ ڈیجیٹل لین دین سے معاشی سرگرمی کی دستاویز بندی بہتر ہو سکتی ہے اور سرکاری ادائیگیوں میں شفافیت بڑھ سکتی ہے۔ تاہم اس کے اثرات کا انحصار نظام کی لاگت، کاروباری اداروں کی قبولیت، انٹرنیٹ اور موبائل رابطے، بینکاری رسائی اور صارفین کے اعتماد پر ہوگا۔ موجودہ اعلان کو پالیسی سمت سمجھا جائے گا، جبکہ عملی نتائج آئندہ نفاذ اور اعداد و شمار سے سامنے آئیں گے۔

قومی روڈ میپ کے تحت مختلف سرکاری اداروں، مالیاتی شعبے اور ادائیگی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان ہم آہنگی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو معاشی جدیدکاری کے اہم ستون کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن نقدی سے ڈیجیٹل ذرائع کی جانب منتقلی بتدریج ہوگی اور اس میں شہری و دیہی صارفین کی مختلف ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔