اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کے تازہ نتائج میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو، انتہائی دائیں بازو اور الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں کا بلاک 53 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، تاہم وہ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔ رائٹرز کے 30 اکتوبر تک اپ ڈیٹ انتخابی نتائج کے مطابق گادی آئزن کوٹ سے منسلک اپوزیشن جماعتوں کے بلاک نے 48 نشستیں حاصل کیں، جبکہ عرب جماعتوں کے حصے میں مجموعی طور پر 19 نشستیں آئیں۔
نتائج نے اسرائیل میں فوری اور واضح اکثریتی حکومت کے بجائے اتحادی مذاکرات کا مرحلہ پیدا کردیا ہے۔ نیتن یاہو کا بلاک سب سے بڑا پارلیمانی گروپ ہونے کے باوجود اکیلے حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں نہیں، جبکہ اپوزیشن کو بھی حکومت بنانے کے لیے اضافی حمایت درکار ہوگی۔ رائٹرز کے مطابق عرب جماعتوں کی 19 نشستیں ممکنہ طور پر حکومت سازی کی مساوات میں اہم بن سکتی ہیں، خاص طور پر اگر اپوزیشن اقلیتی حکومت یا باہر سے حمایت کے کسی انتظام پر غور کرتی ہے۔
اسرائیلی نظام کے تحت حتمی نتائج کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کریں گے اور اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے کامیاب ہونے کے امکانات انہیں زیادہ نظر آئیں۔ اگر پہلے نامزد امیدوار کی کوشش ناکام ہو تو دوسرے امیدوار کو موقع دیا جاسکتا ہے، اور مسلسل ناکامی کی صورت میں نئے انتخابات کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔ اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم کے طور پر عہدے پر برقرار رہیں گے۔
رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو کے لیے ایک ممکنہ راستہ ایسی وسیع تر اتحادی حکومت ہوسکتا ہے جس میں مرکز یا دائیں بازو کی بعض اپوزیشن جماعتیں شامل ہوں، لیکن اس کے لیے موجودہ انتہائی دائیں بازو یا مذہبی اتحادیوں سے متعلق مشکل سیاسی فیصلے درکار ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب آئزن کوٹ کی قیادت میں حکومت کا امکان عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر محدود دکھائی دیتا ہے، جبکہ انتخابی مہم کے دوران مختلف جماعتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیے تھے۔
انتخابی نتیجہ ایسے وقت آیا ہے جب اسرائیل داخلی سیاسی تقسیم، غزہ جنگ کے بعد کے اثرات، ایران سے کشیدگی، سکیورٹی پالیسی اور نیتن یاہو کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے سمیت کئی بڑے مسائل سے دوچار ہے۔ موجودہ اعداد کسی ایک بلاک کو واضح مینڈیٹ نہیں دیتے، اس لیے آنے والے ہفتوں میں جماعتی مشاورت اور اتحاد سازی یہ طے کرے گی کہ نئی حکومت بنتی ہے یا سیاسی تعطل برقرار رہتا ہے۔

