سیول: جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے جمعرات کو مشرقی سمندر، جسے بحیرہ جاپان بھی کہا جاتا ہے، کی سمت تقریباً ایک درجن کم فاصلے کے بیلسٹک میزائل داغے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے حوالے سے مقامی میڈیا نے بتایا کہ میزائل شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی شہر وونسان کے علاقے سے فائر کیے گئے۔ حکام میزائلوں کی پرواز کے فاصلے، بلندی اور دیگر تکنیکی خصوصیات کا مزید تجزیہ کر رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق تازہ لانچ کے بعد نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور ممکنہ اضافی میزائل تجربات کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سیول نے کہا کہ امریکا اور جاپان کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے ذریعے دفاعی تیاری برقرار رکھی جا رہی ہے۔ اس بیان میں فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
جاپان کی وزارت دفاع نے بھی ابتدائی طور پر اطلاع دی کہ شمالی کوریا نے ایسی چیز فائر کی ہے جو ممکنہ طور پر بیلسٹک میزائل ہو سکتی ہے۔ جاپانی کوسٹ گارڈ نے بحری جہازوں کو مزید سرکاری معلومات پر نظر رکھنے اور سمندر میں گرنے والی کسی مشتبہ چیز کے قریب نہ جانے کی ہدایت کی۔ یہ احتیاطی اقدام شمالی کوریا کے میزائل تجربات کے دوران جاپانی حکام کی معمول کی بحری سلامتی کارروائیوں کا حصہ ہے۔
تازہ میزائل فائرنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب پیانگ یانگ نے 12 اکتوبر کو بھی اپنے دارالحکومت کے علاقے سے مشرقی سمندر کی سمت متعدد بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ مسلسل تجربات خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھا رہے ہیں، جہاں جنوبی کوریا، جاپان اور امریکا شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگراموں کو اہم دفاعی چیلنج قرار دیتے ہیں۔
شمالی کوریا نے اس تازہ لانچ کے مقصد، میزائلوں کی قسم یا آزمائش کے نتائج سے متعلق فوری تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا تھا۔ اس لیے فی الحال تعداد اور نوعیت سے متعلق معلومات بنیادی طور پر جنوبی کوریا اور جاپان کے دفاعی اداروں کے ابتدائی جائزوں پر مبنی ہیں۔ مزید تکنیکی تفصیلات فوجی تجزیے کے بعد سامنے آ سکتی ہیں۔

