انقرہ: ترکیہ کے معروف سیاحتی علاقے کپاڈوکیا میں شدید بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے ایک قدرتی چٹانی مینار گرنے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔ اے ایف پی اور ترک حکام کے مطابق واقعہ جمعرات کو وسطی ترکیہ کے گوریمے قصبے میں پیش آیا، جو اپنی منفرد آتش فشانی چٹانی ساختوں اور تاریخی مقامات کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

ابتدائی طور پر حکام نے دو ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد میں امدادی کارروائی کے دوران ہلاکتوں کی تعداد تین ہوگئی۔ ترک وزیر انصاف آکن گورلیک نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق متعدد افراد حادثے کی زد میں آئے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ مقامی حکام اور ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ مقام پر تلاش اور امداد کا کام جاری رکھا جبکہ علاقے کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا۔

نیوشہیر کے گورنر حسین آک کے مطابق حادثہ مقامی وقت کے مطابق سہ پہر کے قریب گوریمے اوپن ایئر میوزیم کے نزدیک پیش آیا۔ شدید بارش کے بعد زمین کھسکنے سے چٹانیں گریں اور علاقے کی نمایاں قدرتی ساختوں میں سے ایک متاثر ہوئی۔ عینی شاہدین نے ایک زور دار آواز سننے کی اطلاع دی، جس کے بعد امدادی اداروں کو طلب کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ جائے وقوع پر دستیاب وسائل کے ساتھ سرچ اینڈ ریسکیو کارروائی کی گئی۔

کپاڈوکیا یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل خطہ ہے اور اپنی مخروطی چٹانی ساختوں، جنہیں عام طور پر ’فیری چمنیز‘ کہا جاتا ہے، زیرزمین شہروں اور قدیم عبادت گاہوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ ساختیں لاکھوں سال پہلے آتش فشانی سرگرمی اور بعد ازاں ہوا اور پانی کے کٹاؤ سے وجود میں آئیں۔ قدرتی کٹاؤ ان کی تشکیل کا حصہ ہے، لیکن شدید موسمی واقعات بعض مقامات پر چٹانوں کے عدم استحکام اور اچانک گرنے کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

حادثے کے بعد ترک حکام نے متاثرہ حصے تک رسائی محدود کردی تاکہ مزید ممکنہ چٹانی حرکت کے دوران شہریوں اور سیاحوں کو خطرے سے بچایا جاسکے۔ واقعے کی فوری وجہ شدید بارش سے پیدا ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ بتائی گئی ہے، تاہم کسی وسیع تکنیکی یا ارضیاتی جائزے کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔ ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق تازہ سرکاری اعداد کے مطابق تین افراد جان سے گئے اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔