تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع دینا چاہتا ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب قطر نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نیا مسودہ ایران کے سامنے رکھا ہے اور دوسری جانب امریکا کی ممکنہ نئی فوجی کارروائی سے متعلق اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔

مذاکرات سے آگاہ ایک عہدیدار کے مطابق قطر کی جانب سے پیش کردہ تجویز سات روزہ ٹائم لائن پر مبنی ہے جس میں تہران اور واشنگٹن دونوں کے خدشات سے نمٹنے کے لیے روزانہ اعتماد سازی کے اقدامات شامل ہیں۔ عہدیدار نے بتایا کہ کئی ممالک ممکنہ معاہدے کے ضامن بن سکتے ہیں اور ٹائم لائن اگلے ہفتے کے آغاز میں شروع ہو سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے باضابطہ جواب ہفتے کے اختتام تک متوقع بتایا گیا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے تجویز کردہ سات روزہ منصوبے کے نفاذ کے طریقوں پر ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اگر شرائط پوری ہوں تو اسے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ قطر اور پاکستان جنگ ختم کرانے کی ثالثی کوششوں میں شریک رہے ہیں۔ تنازع نے عالمی جہاز رانی اور تیل کی رسد متاثر کی ہے اور حالیہ عرصے میں اس کے اثرات سعودی عرب اور یمن تک پھیلے ہیں۔

دوسری جانب امریکی فوجی تیاریوں سے متعلق بعض اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ امریکا نے خلیجی عرب ممالک کو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ مختصر مگر شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔ رپورٹ میں پیٹریاٹ دفاعی نظام کی خطے میں منتقلی، گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی اور بحری و فضائی وسائل کی تیاری کا ذکر کیا گیا۔ یہ معلومات میڈیا رپورٹس اور نامعلوم ذرائع پر مبنی ہیں؛ امریکی صدر کی جانب سے کسی نئی کارروائی کا حتمی فیصلہ سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی دی ہے، جبکہ ایرانی سکیورٹی حکام نے بھی ممکنہ جوابی اقدامات سے متعلق سخت بیانات دیے ہیں۔ ان متضاد اشاروں کے درمیان قطر کی ثالثی تجویز سفارتی راستے کو برقرار رکھنے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران جنگ میں امریکی فوجی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ استعمال شدہ گولہ بارود اور کھوئے گئے فوجی سازوسامان کی تبدیلی پر مزید بھاری اخراجات متوقع ہیں۔ موجودہ مرحلے پر جنگ بندی یا نئے حملوں دونوں کے امکانات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا؛ پیش رفت کا دارومدار تہران کے جواب، ثالثی مذاکرات اور واشنگٹن کے آئندہ سرکاری فیصلوں پر ہوگا۔