اقوام متحدہ: جنرل اسمبلی نے کیوبا پر امریکہ کی طویل عرصے سے عائد اقتصادی، تجارتی اور مالی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والی سالانہ قرارداد ایک بار پھر منظور کرلی ہے، تاہم اس مرتبہ قرارداد کی حمایت گزشتہ تین دہائیوں کی کم ترین سطح پر رہی۔ قرارداد کے حق میں 130 ممالک نے ووٹ دیا، 17 نے مخالفت کی جبکہ 25 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا یا غیر حاضر رہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 1992 سے تقریباً ہر سال اسی نوعیت کی قرارداد پیش کی جاتی رہی ہے اور عمومی طور پر اسے بھاری اکثریت سے حمایت ملتی رہی ہے۔ 2026 کی ووٹنگ میں بھی قرارداد منظور ہوگئی، لیکن حق میں آنے والے ووٹ 1995 کے بعد سب سے کم بتائے گئے ہیں۔ اس تبدیلی نے کیوبا اور امریکہ کے درمیان دیرینہ تنازع کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کی سفارتی ترجیحات میں تبدیلی کو بھی نمایاں کیا ہے۔
اس سال کی قرارداد میں جنوری سے امریکہ کی جانب سے کیوبا کو ایندھن کی فراہمی سے متعلق پابندیوں کے اثرات کا حوالہ بھی شامل کیا گیا۔ کیوبا کی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں الزام عائد کیا تھا کہ واشنگٹن دوسرے ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ وہ قرارداد کی حمایت واپس لیں۔ کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے ووٹنگ کے بعد نتیجے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امریکی دباؤ پر تنقید کی۔ یہ کیوبا کا سرکاری مؤقف ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے ووٹنگ سے قبل کیوبا کے مؤقف کو مسترد کیا اور کہا کہ جزیرے کو درپیش مشکلات کی ذمہ داری کیوبا کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے پابندیوں اور اپنے کیوبا پالیسی کے دفاع میں انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور حکومتی نظام سے متعلق اعتراضات پیش کرتا رہا ہے، جبکہ ہوانا ان پابندیوں کو اپنی معیشت اور عوامی ضروریات پر براہ راست بوجھ قرار دیتا ہے۔
جنرل اسمبلی کی قرارداد سیاسی اور سفارتی وزن رکھتی ہے، لیکن یہ خود بخود امریکی پابندیوں کو ختم نہیں کرتی۔ پابندیوں کے قانونی اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے امریکہ کے اندر متعلقہ حکومتی اور قانون ساز اقدامات درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے ووٹنگ کا فوری نتیجہ پابندیوں کا خاتمہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر رکن ممالک کے موقف کا ایک نیا پیمانہ ہے۔ 2026 میں حمایت میں نمایاں کمی مستقبل کی سفارتی صف بندیوں کے حوالے سے اہم اشارہ ضرور ہے، مگر قرارداد پھر بھی واضح اکثریت سے منظور ہوئی ہے۔

