میڈرڈ: اسپین کے وسطی علاقے کاسٹیلا لا مانچا میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم سے کم از کم 68 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق حادثہ میڈرڈ سے تقریباً 130 کلومیٹر جنوب میں اُردا گاؤں کے قریب پیش آیا، جہاں تصادم کے بعد ایک ٹرین دوسری میں دھنس گئی اور متعدد بوگیاں پٹڑی سے نیچے ملبے کی شکل میں جا گریں۔

کاسٹیلا لا مانچا کے صدر ایمیلیانو گارسیا پیج نے 68 اموات کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امدادی کارروائی کے دوران مزید متاثرین مل سکتے ہیں۔ علاقائی حکومت کی ترجمان کے مطابق زخمیوں میں سے 58 کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا اور ان میں 15 کی حالت نازک تھی۔ ہلاکتوں کی تعداد اس واقعے کو رواں صدی میں یورپ کے سنگین ترین ریل حادثات میں شامل کرتی ہے۔

سرکاری ریلوے آپریٹر رینفے نے حادثے کے بعد میڈرڈ سے جنوبی اسپین جانے والی مرکزی تیز رفتار لائن معطل کر دی۔ حکام کے مطابق رینفے کی ایک ٹرین نجی ہسپانوی کمپنی ایریو کی کھڑی ہوئی ٹرین سے ٹکرائی۔ وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پونتے نے کہا کہ خودکار کنٹرول نظام میں تکنیکی خرابی کے باعث تقریباً 69 کلومیٹر طویل حصے پر ٹریفک رکی ہوئی تھی، لیکن رینفے ٹرین کو نظام مکمل بحال ہونے سے پہلے آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔

وزیر ٹرانسپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ کنٹرول سینٹر کی سطح پر کیا گیا اور ٹرین نے تقریباً 25 کلومیٹر سفر کرنے کے بعد دوسری ٹرین کو ٹکر ماری، اس وقت رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی اطلاع ہے۔ یہ بیان ابتدائی سرکاری وضاحت ہے؛ حادثے کی مکمل تکنیکی اور قانونی ذمہ داری باقاعدہ تحقیقات کے بعد ہی متعین ہوگی۔

ایک زندہ بچ جانے والے مسافر نے تصادم کو انتہائی شدید قرار دیتے ہوئے بتایا کہ بوگیوں میں نشستیں اکھڑ گئیں اور مسافر ایک دوسرے پر جا گرے۔ امدادی ٹیموں نے بھاری مشینری اور کرینوں کی مدد سے ملبہ ہٹایا اور متاثرین کی تلاش جاری رکھی۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے جمعرات سے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے چند ماہ کے اندر دو بڑے تیز رفتار ریل حادثات کو ناقابل قبول قرار دیا۔ حادثہ 29 نومبر کے قبل از وقت عام انتخابات سے تقریباً ایک ماہ پہلے پیش آیا ہے، جس کے بعد حکمران سوشلسٹ پارٹی اور حزب اختلاف کی پاپولر پارٹی نے انتخابی سرگرمیاں معطل کر دیں۔ حزب اختلاف نے ریل انفراسٹرکچر کی حالت اور حفاظتی نظام سے متعلق مکمل جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے۔