ریاض: سعودی قیادت والے اتحاد نے جمعرات 29 اکتوبر کو اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں روک کر تباہ کر دیا۔ ڈان اور اے ایف پی کے مطابق اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اس کارروائی کی تصدیق کی۔
اتحاد کے بیان میں کہا گیا کہ میزائل مشرقی صوبے کی سمت بھیجا گیا تھا۔ ابتدائی اعلان میں کسی جانی نقصان، زخمی ہونے یا املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی ہدف کی مزید تفصیل بتائی گئی۔ اس لیے واقعے کے اثرات کے بارے میں دستیاب معلومات اتحاد کے سرکاری بیان تک محدود ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب یمن کی جنگ اور سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران شدت دیکھی گئی ہے۔ خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں نے شہری ہوا بازی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور سرحدی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ سعودی عرب کا مشرقی صوبہ ملک کے توانائی شعبے کے لیے بھی اہم ہے، تاہم جمعرات کے میزائل کے کسی مخصوص توانائی تنصیب کو ہدف بنانے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
حوثی تحریک یمن میں ایک بڑی عسکری اور سیاسی قوت ہے اور طویل عرصے سے سعودی قیادت والے اتحاد کے ساتھ تنازع میں رہی ہے۔ دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق بعض اوقات فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی۔ موجودہ واقعے میں میزائل روکے جانے کا دعویٰ سعودی اتحاد کی جانب سے کیا گیا ہے۔
حالیہ کشیدگی نے خلیج اور بحیرہ احمر کے وسیع تر خطے میں سلامتی کے خدشات کو بھی بڑھایا ہے۔ کسی بھی بڑے حملے کا اثر توانائی کی منڈیوں، تجارتی راستوں اور شہری پروازوں تک پھیل سکتا ہے، اسی لیے بین الاقوامی منڈیاں خطے کی عسکری صورتحال پر قریبی نظر رکھتی ہیں۔
جمعرات کے واقعے کے بعد فوری طور پر کسی بڑے تعطل یا نقصان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ آئندہ سرکاری بیانات سے یہ واضح ہوگا کہ میزائل کہاں سے داغا گیا، اس کا ممکنہ ہدف کیا تھا اور آیا اس کے ملبے سے کسی علاقے میں نقصان ہوا یا نہیں۔

