سیول: جنوبی کوریا میں خصوصی پراسیکیوٹر کی ٹیم نے سابق صدر یون سک یول کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی اپیل میں سزائے موت دینے کی درخواست کر دی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق خصوصی پراسیکیوٹر چو یون سک کی سربراہی میں ٹیم نے سیول ہائی کورٹ میں یہ مؤقف اختیار کیا، جہاں یون اپنی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔ یہ استغاثہ کی درخواست ہے؛ اپیلٹ عدالت نے ابھی اس مطالبے پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
یون سک یول کو فروری 2026 میں نچلی عدالت نے دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش کے ذریعے بغاوت کی قیادت کرنے کے جرم میں عمر قید سنائی تھی۔ ان کا مارشل لا چند گھنٹوں تک برقرار رہا اور قومی اسمبلی نے اسے روک کر منسوخ کر دیا تھا۔ استغاثہ نے ابتدائی مقدمے میں بھی جنوری میں سزائے موت کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی۔
سابق صدر کے خلاف مارشل لا کے معاملے کے علاوہ ان کی اہلیہ سے منسوب مبینہ بدعنوانی اور 2023 میں ایک میرین افسر کی موت سمیت مختلف معاملات سے متعلق مجموعی طور پر آٹھ عدالتی کارروائیوں کا سامنا ہونے کی اطلاع ہے۔ ہر مقدمے کی نوعیت اور قانونی حیثیت الگ ہے، اس لیے ایک کیس میں استغاثہ کا مؤقف دوسرے مقدمات میں جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔
یون کو اپریل 2025 میں عہدے سے باضابطہ طور پر ہٹا دیا گیا تھا، جب آئینی عدالت نے دسمبر 2024 کے مارشل لا اعلان پر ان کے مواخذے کو متفقہ طور پر برقرار رکھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ملک میں قبل از وقت صدارتی انتخاب ہوا۔ یون نے فروری میں عوام کو مارشل لا کے مختصر نفاذ سے پیدا ہونے والی مشکلات اور پریشانی پر معذرت کی تھی، لیکن اپنے اقدام کے مقصد اور نیت کا دفاع بھی کیا تھا۔
سابق صدر کے وکلا نے نچلی عدالت کے عمر قید کے فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیا تھا۔ اب سیول ہائی کورٹ میں اپیل کے مرحلے پر عدالت استغاثہ اور دفاع کے دلائل کا جائزہ لے گی۔ جنوبی کوریا میں سزائے موت قانونی طور پر موجود ہے، تاہم موجودہ کارروائی میں اہم نکتہ یہ ہے کہ پراسیکیوٹر نے سزا بڑھانے کی درخواست کی ہے، نہ کہ عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے۔ اپیل کا حتمی نتیجہ عدالتی فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگا۔

