وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبائی نوعیت کی تبدیلی صرف عوامی رضامندی، سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی و جمہوری طریقۂ کار کے تحت ہونی چاہیے۔ انہوں نے 5 ستمبر 2026 کو لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی فرد، سیاسی جماعت یا حکومت یکطرفہ طور پر ایسی تبدیلی نافذ نہیں کرسکتی اور اگر عوام اس تجویز کی حمایت نہ کریں تو نئے یونٹس قائم نہیں ہونے چاہئیں۔

محسن نقوی کے مطابق انتظامی نظام میں ’’ری سیٹ‘‘ سے مراد موجودہ ریاستی ڈھانچے کو توڑنا نہیں بلکہ ان حصوں کو درست کرنا ہے جو مؤثر نتائج نہیں دے رہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے یونٹس کی تعداد، جغرافیائی حدود اور شکل طے کرنے سے پہلے ان کے فوائد، ممکنہ نقصانات، انتظامی طریقے اور مالی نتائج کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ یہ ان کا پالیسی مؤقف ہے؛ وفاقی حکومت نے کسی مخصوص نئے صوبے، نقشے یا تقسیم کی منظوری کا اعلان نہیں کیا۔

وزیر داخلہ نے تجویز دی کہ ماہرین، پارلیمان، سیاسی جماعتیں اور متعلقہ آبادی مل کر ایک قابلِ بحث خاکہ تیار کریں اور اسے عوام کے سامنے رکھا جائے۔ ان کے بقول حتمی سمت لوگوں کی رائے کے مطابق طے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی اصلاح ایک رات میں نہیں ہوگی اور اسے جذباتی نعروں یا علاقائی تقسیم کے بجائے حکمرانی، خدمات کی فراہمی اور عوام کو حکومت کے قریب لانے کے مقصد سے دیکھا جانا چاہیے۔

محسن نقوی نے اپنی جولائی 2026 کی سابقہ گفتگو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنقید کسی خاص جماعت یا صوبے کے خلاف نہیں تھی بلکہ آزادی کے بعد سے چلنے والے انتظامی نظام کی کارکردگی سے متعلق تھی۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس سے متعلق ان کے سابقہ بیانات پر سیاسی حلقوں، سندھ حکومت، وکلا اور قوم پرست جماعتوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا تھا۔ موجودہ خطاب میں انہوں نے اس اختلاف کو سیاسی مشاورت اور عوامی رائے کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے انتظامی اصلاحات کی ضرورت بیان کرتے ہوئے تعلیم، صاف پانی اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات سے متعلق اعداد کا حوالہ دیا۔ یہ اعداد ان کی تقریر میں پیش کیے گئے اور ان کا مقصد عوامی خدمات میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرنا تھا۔ نئے یونٹس بنانے سے ان مسائل کا ازخود حل ہونا ثابت شدہ نتیجہ نہیں؛ کسی بھی تجویز کے اثر کا انحصار وسائل، اختیارات، ادارہ جاتی صلاحیت، مقامی حکومت اور مالی تقسیم کے عملی ڈھانچے پر ہوگا۔

وزیر داخلہ نے اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دینے کی اپنی حمایت بھی دہرائی اور کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو قومی مالیاتی کمیشن، این ایف سی، میں حصہ ملنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ بندوبست میں اسلام آباد کے شہریوں کو وہ مالی اور نمائندہ حقوق حاصل نہیں جو صوبائی ڈھانچے کے ذریعے مل سکتے ہیں۔ یہ ایک سیاسی و پالیسی تجویز ہے؛ اسلام آباد کو صوبہ بنانے یا این ایف سی حصہ دینے کے لیے متعلقہ آئینی، قانونی اور بین الحکومتی مراحل درکار ہوں گے اور فی الحال ایسی تبدیلی نافذ نہیں ہوئی۔

نئے صوبے یا انتظامی یونٹ قائم کرنے کا سوال قومی اور صوبائی حدود، اسمبلیوں کی نمائندگی، وسائل، سرکاری ملازمین، عدالتی و پولیس نظام اور این ایف سی تقسیم جیسے متعدد معاملات سے جڑا ہے۔ اسی لیے وزیر داخلہ نے مالی نتائج اور آئینی تقاضوں کی پیشگی جانچ پر زور دیا۔ ان کے خطاب میں کسی کمیشن کے قیام، ریفرنڈم، پارلیمانی بل یا باقاعدہ نقشہ جاری کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ علاقائی، نسلی یا لسانی شناخت ختم کرنا مجوزہ اصلاحات کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ایک سندھی یا پنجابی اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی بہتر انتظامی خدمات کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ مسئلے کو کسی ایک شخص یا صوبے کا معاملہ بنانے کے بجائے قومی مکالمے میں تبدیل کریں۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت وزیر داخلہ کی جانب سے عوامی رضامندی، پارلیمانی بحث، سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی راستے کو لازمی قرار دینے والا پالیسی بیان ہے۔ ملک میں کسی نئے انتظامی یونٹ کی منظوری، حدود کا تعین یا تشکیل کا عمل شروع ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔