فیصل آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو نئے کاروباری ماڈل کے تحت ازسرنو منظم کیا جا رہا ہے تاکہ ادارہ اپنے مالی وسائل پیدا کرسکے اور آئندہ دس برس میں ملک کی بڑی شاہراہوں کی تعمیر نو اور بہتری کے منصوبے آگے بڑھائے۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ارکان سے گفتگو میں اس حکمت عملی کی تفصیلات بیان کیں۔

وزیر مواصلات کے مطابق نئے ماڈل میں این ایچ اے کی توجہ صرف بجٹ پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے وسائل بڑھانے اور انہیں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے اور رابطہ کاری بہتر بنانے میں استعمال کرنے پر ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ایم فور موٹروے کو چھ لین کرنے کے منصوبے پر تقریباً 15 ارب روپے لاگت آئے گی اور یہ رقم این ایچ اے اپنے وسائل سے فراہم کرے گا۔

ایم فور ملک کے اہم موٹروے نیٹ ورک کا حصہ ہے اور وسطی پنجاب کے صنعتی اور تجارتی مراکز کو دوسرے بڑے راستوں سے ملاتی ہے۔ چھ لین منصوبے کا مقصد بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کے تناظر میں گنجائش میں اضافہ کرنا ہے۔ تاہم منصوبے کے مکمل تعمیراتی شیڈول، خریداری کے مراحل اور کام کے آغاز و تکمیل کی تفصیلی تاریخیں رپورٹ میں بیان نہیں کی گئیں، اس لیے ان نکات کو حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

عبدالعلیم خان نے وسیع تر سڑک نیٹ ورک کی بحالی کو طویل مدتی ہدف قرار دیا اور کہا کہ این ایچ اے کے مالی ڈھانچے میں تبدیلی کے ذریعے بڑی شاہراہوں کی تعمیر نو کے لیے پائیدار وسائل پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس پالیسی کے عملی نتائج کا انحصار آمدن پیدا کرنے کے طریقہ کار، منصوبوں کی لاگت، شفاف خریداری اور مرحلہ وار نفاذ پر ہوگا۔

پاکستان میں قومی شاہراہیں مسافر اور مال بردار ٹریفک دونوں کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں اور صنعتی شہروں کی رسد، برآمدی زنجیر اور بین الصوبائی تجارت میں ان کا اہم کردار ہے۔ اسی لیے این ایچ اے کی مالی خودانحصاری اور بڑے منصوبوں کے لیے مستقل فنڈنگ کا انتظام نقل و حمل کے شعبے کی طویل مدتی کارکردگی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔