لاہور: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے اپنے ریونیو کا ہدف 160 ارب روپے مقرر کیا ہے جبکہ ادارے کے اخراجات کو 50 ارب روپے تک محدود رکھنے کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ حکومت اس اقدام کو قومی شاہراہوں کے ادارے کی مالی خود انحصاری اور وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال کی کوشش کا حصہ قرار دے رہی ہے۔

این ایچ اے ملک کی موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے بڑے حصے کی تعمیر، دیکھ بھال اور انتظام کا ذمہ دار وفاقی ادارہ ہے۔ اس کی آمدن میں ٹول محصولات، مختلف فیسیں، کمرشل استعمال سے حاصل ہونے والی رقوم اور دوسرے ذرائع شامل ہوتے ہیں، جبکہ بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے وفاقی ترقیاتی وسائل اور دیگر فنانسنگ بھی استعمال کی جاتی ہے۔

ریونیو ہدف بڑھانے کا مقصد موجودہ شاہراہ نیٹ ورک سے وصولیوں کو بہتر بنانا اور ایسے مالی وسائل پیدا کرنا ہے جو سڑکوں کی مرمت، آپریشن اور مستقبل کی سرمایہ کاری میں استعمال ہو سکیں۔ اس کے ساتھ اخراجات پر حد مقرر کرنے سے انتظامی لاگت اور غیر ضروری خرچ میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم حقیقی مالی نتیجہ سال کے اختتام پر وصول ہونے والی آمدن اور عملی اخراجات کے اعداد و شمار سے ہی سامنے آئے گا۔

ٹول ریونیو میں اضافے کے لیے الیکٹرانک وصولی، ٹریفک ڈیٹا کی بہتر نگرانی، لیکیج میں کمی اور ٹول پلازوں کے انتظام میں اصلاحات اہم ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب شاہراہوں کی دیکھ بھال پر بہت زیادہ کمی بھی طویل مدت میں انفراسٹرکچر کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے اخراجاتی نظم کے ساتھ ضروری maintenance کو برقرار رکھنا بنیادی چیلنج رہے گا۔

پاکستان میں سڑکوں کا نیٹ ورک تجارت، مسافر نقل و حرکت اور بندرگاہوں سے اندرون ملک سامان کی ترسیل کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ این ایچ اے کی مالی کارکردگی بہتر ہونے سے وفاقی بجٹ پر کچھ دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، بشرطیکہ محصولات میں اضافہ مستقل ہو اور اخراجات میں کمی سروس کے معیار یا ضروری منصوبوں کو متاثر نہ کرے۔

160 ارب روپے کا ریونیو عدد ایک ہدف ہے، حاصل شدہ آمدن نہیں۔ اسی طرح 50 ارب روپے کی اخراجاتی حد کو بھی سال کے دوران ادارے کی حقیقی مالی کارکردگی کے تناظر میں جانچنا ہوگا۔ حکومت کی پالیسی کے نتائج آئندہ مالی رپورٹس، ٹول وصولیوں اور قومی شاہراہوں کی عملی حالت سے زیادہ واضح ہوں گے۔