اسٹاک ہوم: امریکی سائنسدان کارل ڈائسراتھ اور جرمنی کے پیٹر ہیگمن اور جارج ناگل کو 2026 کا نوبیل انعام برائے فزیالوجی یا طب ان کی ان دریافتوں پر دیا گیا ہے جنہوں نے روشنی کے ذریعے مخصوص خلیاتی عمل کو کنٹرول کرنے اور دماغ کے کام کو سمجھنے کے نئے طریقے فراہم کیے۔ نوبیل اسمبلی نے 5 اکتوبر کو اعلان کیا کہ تینوں سائنسدانوں کو روشنی سے فعال ہونے والے آئن چینلز اور آپٹوجینیٹکس سے متعلق بنیادی کام پر منتخب کیا گیا ہے۔

آپٹوجینیٹکس ایک تحقیقی طریقہ ہے جس میں جینیاتی اور نوری تکنیکوں کو ملا کر مخصوص خلیوں، خصوصاً اعصابی خلیوں، کی سرگرمی کو روشنی کے ذریعے متاثر یا کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے نے نیوروسائنس میں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ دماغ کے مخصوص خلیاتی نیٹ ورک رویے، حرکت، یادداشت اور دیگر حیاتیاتی افعال میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں۔

ڈان میں شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کارل ڈائسراتھ کی عمر 54 برس، پیٹر ہیگمن کی 71 برس اور جارج ناگل کی 73 برس ہے۔ نوبیل اسمبلی نے تینوں کے کام کو روشنی سے فعال آئن چینلز اور آپٹوجینیٹکس کی ترقی سے جوڑا، جس نے دماغی تحقیق میں تجرباتی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر وسیع کیا۔

ہیگمن اور ناگل کی تحقیق نے ایسے نوری حساس پروٹینز کی شناخت اور تفہیم میں اہم کردار ادا کیا جو روشنی کے زیر اثر خلیات میں برقی سرگرمی بدل سکتے ہیں۔ بعد میں ان سائنسی بنیادوں کو اعصابی نظام کے مطالعے میں اس طرح استعمال کیا گیا کہ مخصوص نیورونز کو منتخب انداز میں متحرک یا غیر فعال کیا جا سکے۔ ڈائسراتھ ان محققین میں شامل رہے جنہوں نے اس تصور کو جدید نیوروسائنس کے مؤثر تجرباتی آلے میں تبدیل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

یہ اعزاز طب کے نوبیل انعام کی 2026 کی سالانہ اعلاناتی سلسلے کی پہلی بڑی سائنسی کڑی ہے۔ نوبیل انعامات کا اعلان اکتوبر میں مختلف شعبوں کے لیے مرحلہ وار کیا جاتا ہے، جن میں فزکس، کیمسٹری، ادب، امن اور اقتصادی علوم بھی شامل ہیں۔

تینوں سائنسدانوں کی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ بنیادی حیاتیاتی تحقیق کس طرح نئی ٹیکنالوجی اور تجرباتی طریقوں میں بدل سکتی ہے۔ آپٹوجینیٹکس نے خاص طور پر دماغ کے پیچیدہ سرکٹس کو سمجھنے کے لیے ایسی درستگی فراہم کی جس کا حصول روایتی طریقوں سے مشکل تھا، اور یہی وجہ ہے کہ یہ تکنیک جدید نیوروسائنس کے اہم اوزار میں شمار ہوتی ہے۔