دی ہیگ: عالمی فوجداری عدالت نے افغان طالبان کے دو تعلیمی عہدیداروں کے خلاف گرفتاری وارنٹ غیر سربمہر کرتے ہوئے انہیں عوامی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے۔ عدالت کے مطابق دونوں افراد پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف پالیسیوں سے منسلک صنفی بنیاد پر انسانیت کے خلاف جرمِ ایذا رسانی کے الزامات کے حوالے سے قابلِ معقول بنیادیں موجود ہیں۔

الزامات کا تعلق ان پابندیوں سے ہے جن کے تحت افغانستان میں لڑکیوں کو پرائمری سطح کے بعد اسکول جانے اور خواتین کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے روکا گیا ہے۔ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی میں شرکت پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

گرفتاری وارنٹ کسی شخص کے مجرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتے۔ آئی سی سی کا یہ مرحلہ الزامات اور عدالت کے دائرہ اختیار کے تحت ملزم کو عدالتی عمل میں لانے کی کوشش سے متعلق ہے، جبکہ حتمی مجرمانہ ذمہ داری باقاعدہ عدالتی کارروائی اور ثبوتوں کی جانچ کے بعد ہی طے ہو سکتی ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق وارنٹ طالبان حکومت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے افغان طالبان حکام سے ردعمل کے لیے رابطہ کیا۔ طالبان انتظامیہ ماضی میں خواتین سے متعلق اپنی پالیسیوں کو داخلی اور مذہبی اصولوں کے تناظر میں بیان کرتی رہی ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور متعدد ممالک نے ان پابندیوں پر سخت تنقید کی ہے۔

آئی سی سی کے پاس اپنی پولیس فورس نہیں اور گرفتاری کے لیے رکن ممالک کے تعاون پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے وارنٹ جاری یا غیر سربمہر ہونے کے باوجود عملی گرفتاری فوری یا یقینی نہیں ہوتی۔ تاہم ایسے وارنٹ متعلقہ عہدیداروں کے بین الاقوامی سفر اور سفارتی روابط پر اثر ڈال سکتے ہیں اور افغانستان میں خواتین کے حقوق کے مسئلے کو عالمی قانونی فورم پر مزید نمایاں کرتے ہیں۔