ماسکو: افغانستان کے بارے میں آٹھویں ماسکو فارمیٹ مشاورت میں پاکستان نے دہشت گردی کو افغانستان سے جڑے علاقائی مسائل کا مرکزی پہلو قرار دیتے ہوئے افغان حکام سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان محمد صادق نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسلام آباد اپنی شہریوں کی سلامتی کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
محمد صادق نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برس میں افغانستان سے منسلک دہشت گردی کے باعث 4,700 سے زیادہ پاکستانی ہلاک ہوئے۔ انہوں نے افغان طالبان انتظامیہ اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان روابط سے متعلق بھی الزامات عائد کیے۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ افغان حکام ماضی میں اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت دینے کے الزامات مسترد کرتے رہے ہیں۔
پاکستانی نمائندے نے کہا کہ اسلام آباد نے افغانستان میں استحکام، انسانی امداد، تجارت اور علاقائی رابطوں کے لیے سفارتی کوششیں کیں، مگر انسداد دہشت گردی کے معاملے میں مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، جامع حکمرانی اور انسانی صورتحال کو بھی افغانستان کے مستقبل سے جڑے اہم مسائل میں شمار کیا۔
ماسکو فارمیٹ روس کی قیادت میں علاقائی مشاورت کا ایک نظام ہے جس میں افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک صورتحال، سلامتی، اقتصادی تعاون اور رابطوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ پاکستانی وفد میں روس اور افغانستان میں تعینات پاکستانی سفرا سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ برسوں میں سرحد پار دہشت گردی کے الزامات اور جوابی بیانات کے باعث کشیدہ رہے ہیں۔ اسلام آباد خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجودگی پر تشویش ظاہر کرتا رہا ہے۔ ماسکو میں پاکستانی بیان اسی وسیع تر سفارتی دباؤ کا حصہ ہے، تاہم اجلاس کے بعد کسی نئے مشترکہ نفاذی طریقہ کار یا دوطرفہ معاہدے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

