بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 5 اکتوبر کو افغان طالبان کے دو سینئر رہنماؤں، سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، کے خلاف پہلے سے جاری گرفتاری وارنٹس کے عدالتی نتائج کی مزید تفصیلات عام کر دی ہیں۔ عدالت نے جولائی 2025 میں ان وارنٹس کے وجود کا اعلان کیا تھا، تاہم ان کی تفصیلی بنیادیں مکمل طور پر منظر عام پر نہیں لائی گئی تھیں۔

رائٹرز کے مطابق آئی سی سی کے ججوں نے قرار دیا کہ دونوں ملزمان پر صنفی بنیاد پر ظلم و ستم کے ذریعے انسانیت کے خلاف جرم کے ارتکاب کا الزام ہے۔ عدالت کے مطابق یہ الزامات افغان خواتین، لڑکیوں اور ان افراد سے متعلق ہیں جو طالبان کی صنفی پالیسیوں، شناخت یا اظہار کے مقررہ تصورات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ مبینہ حکومتی پالیسی کے نتیجے میں بنیادی حقوق اور آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں اور قتل، قید، تشدد، جنسی زیادتی اور جبری گمشدگی جیسے افعال سے تعلق رکھنے والے شواہد زیر غور آئے۔ یہ عدالت کے الزامات اور عدالتی نتائج ہیں؛ گرفتاری وارنٹ کسی حتمی مجرمانہ سزا کے برابر نہیں ہوتا۔

عدالت نے خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کا ذکر کیا، جن میں تعلیم، اظہار رائے اور آزادانہ نقل و حرکت سے متعلق حقوق کی محدودیت شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق طالبان کی عائد کردہ پابندیوں کے باعث افغان خواتین کی بڑی تعداد گھر سے بہت کم نکلتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کے مطابق افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو ثانوی تعلیم اور خواتین کو یونیورسٹی کی تعلیم سے روکا گیا ہے۔

طالبان حکومت ماضی میں آئی سی سی کے اقدامات کو مسترد کرتی رہی ہے اور ایسے وارنٹس کو سیاسی یا غیر منصفانہ قرار دیتی رہی ہے۔ عدالت کی جانب سے نئی تفصیلات جاری کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں رہنما حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ آئی سی سی کے پاس اپنی مستقل پولیس فورس نہیں، اس لیے گرفتاری وارنٹس کے نفاذ کے لیے رکن ریاستوں اور بین الاقوامی تعاون پر انحصار کیا جاتا ہے۔

تازہ پیش رفت سے افغانستان میں خواتین کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی قانونی دباؤ دوبارہ نمایاں ہوا ہے۔ اس معاملے میں اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ آیا کسی ایسے ملک میں، جو آئی سی سی کے ساتھ تعاون کا پابند ہو، ان رہنماؤں کی موجودگی گرفتاری یا کسی دوسرے قانونی اقدام کا باعث بنتی ہے۔ فی الحال مقدمہ الزامات، عدالتی وارنٹس اور ان کے نفاذ کی ممکنہ کوششوں کے مرحلے میں ہے، نہ کہ کسی حتمی سزا کے مرحلے میں۔