میانمار کی راکھین ریاست میں اندرون ملک بے گھر افراد کے دو کیمپوں پر دو دن کے دوران فضائی حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ معلومات اراکان آرمی اور پوناگیون یوتھ ایسوسی ایشن کے ترجمانوں نے فراہم کیں، جبکہ میانمار کی حکومت نے فوری طور پر تازہ حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ خبر رساں ادارہ ان واقعات کی تفصیلات آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

مقامی گروہوں کے مطابق اتوار کی شام تقریباً پانچ بجے راکھین کے پوناگیون ٹاؤن شپ میں بے گھر شہریوں کے ایک کیمپ کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس میں چھ افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے۔ اگلی صبح اسی ٹاؤن شپ کے ایک دوسرے کیمپ پر حملے میں مزید دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔ پوناگیون یوتھ ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ دونوں مقامات پر رہنے والے افراد بے گھر شہری تھے۔

ان ہلاکتوں کی ذمہ داری میانمار کی فوج پر عائد کی جا رہی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ان مخصوص حملوں کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ فوجی حکام ماضی میں یہ کہتے رہے ہیں کہ کارروائیوں کے دوران شہری نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط کی جاتی ہے۔ موجودہ واقعات میں چونکہ آزادانہ رسائی محدود ہے، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد اور حملوں کی نوعیت کے بارے میں دستیاب معلومات فریقین اور مقامی تنظیموں کے بیانات پر مبنی ہیں۔

راکھین، جو بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل ہے، میانمار کی خانہ جنگی کا ایک اہم محاذ بن چکا ہے۔ اراکان آرمی ریاست کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے جبکہ فوج دوبارہ علاقے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک ہفتہ قبل راکھین کے کیاؤکتاؤ کے قریب ایک مارکیٹ پر فضائی حملے میں 50 افراد کی ہلاکت اور کم از کم 58 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر مذمت سامنے آئی۔

میانمار میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی وسیع خانہ جنگی نے ملک کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اندازاً ایک لاکھ افراد ہلاک اور 35 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ تازہ حملوں نے ایسے شہریوں کے تحفظ پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں جو پہلے ہی اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ انسانی امدادی اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج متاثرہ علاقوں تک محفوظ رسائی، زخمیوں کے علاج اور بے گھر خاندانوں کے لیے خوراک و رہائش کی مسلسل فراہمی ہے۔