واشنگٹن/لندن: امریکا نے برطانیہ کے رائل ایئر فورس اڈے فیئر فورڈ پر تعینات تمام بی-1 بمبار طیاروں کو واپس ان کے امریکی اڈوں پر منتقل کر دیا ہے۔ پینٹاگون نے 5 اکتوبر کو اس منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آپریشنل سیکیورٹی کی وجہ سے طیاروں کی نقل و حرکت کے دوران معلومات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ یہ پیش رفت ائیر بیس کے قریب ایک مشتبہ سیکیورٹی واقعے کے بعد سامنے آئی ہے جس پر برطانوی پولیس نے تفتیش کی۔
رپورٹس کے مطابق پولیس کو جنوب مغربی انگلینڈ میں فیئر فورڈ اڈے کے قریب اس وقت بلایا گیا جب ایک مقامی شخص نے کئی وینز اور افراد کی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دی۔ واقعے کے بعد قریبی علاقے کے 85 گھروں کو احتیاطاً خالی کرایا گیا۔ برطانوی انسداد دہشت گردی حکام نے بعد میں کہا کہ گاڑیوں سے دھماکا خیز مواد نہیں ملا، تاہم ایک مقدار میں پیٹرول برآمد ہوا۔
اس معاملے میں لندن سے تعلق رکھنے والے پانچ برطانوی مردوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جبکہ تفتیش جاری رہی۔ گرفتاری کسی جرم کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے اور حکام نے اب تک عدالت میں کسی حتمی الزام یا نتیجے کا اعلان نہیں کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملزمان کی ضمانت پر رہائی پر تنقید کی، لیکن یہ فیصلہ برطانوی قانونی عمل کے تحت کیا گیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واقعے میں ایک 'غیر ملکی فریق' کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا، مگر انہوں نے عوامی طور پر اس فریق کا نام نہیں بتایا۔ دوسری طرف لندن میں ایرانی سفارت خانے نے تہران کے مبینہ تعلق سے متعلق قیاس آرائیوں کو واضح طور پر مسترد کیا اور کسی بھی شمولیت کی تردید کی۔ دستیاب معلومات میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔
آر اے ایف فیئر فورڈ حالیہ امریکی-ایرانی تنازع کے دوران امریکی فضائی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ برطانیہ نے مارچ میں واشنگٹن کو مخصوص دفاعی کارروائیوں کے لیے اس اڈے کے استعمال کی اجازت دی تھی، جس کے بعد امریکی بمبار اور دیگر فوجی طیارے وہاں سے کارروائیاں کرتے دیکھے گئے۔ اسی وجہ سے اڈے کے اطراف سیکیورٹی پہلے ہی سخت کی گئی تھی۔
بی-1 طیاروں کی واپسی سے فیئر فورڈ پر موجود امریکی بمبار فورس کی موجودہ تعیناتی ختم ہو گئی ہے، تاہم پینٹاگون نے اسے وسیع تر عسکری حکمت عملی میں مستقل تبدیلی قرار نہیں دیا۔ طیارے اپنے ہوم اسٹیشنز پر واپس گئے ہیں اور مستقبل کی تعیناتیوں کا فیصلہ امریکی دفاعی حکام حالات اور آپریشنل ضروریات کے مطابق کریں گے۔

