کابل: افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجود تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق انہوں نے یہ بات 5 اکتوبر کو روس میں ایک تقریب کے دوران کہی، ایسے وقت میں جب دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان سرحدی اور سکیورٹی معاملات پر تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
متقی نے اپنے بیان میں پاکستان پر سخت تنقید بھی کی اور الزام عائد کیا کہ اسلام آباد سیاسی مفاہمت کے بجائے فوجی انداز اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان ٹرانزٹ راستوں، افغان مہاجرین اور طلبہ سے متعلق معاملات کو دباؤ کے ذرائع کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور سرحد کے قریب مسلح افراد کی بڑی تعداد جمع کی گئی ہے۔ ان الزامات کی پاکستان کی جانب سے فوری تصدیق نہیں کی گئی؛ رائٹرز کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ، فوج اور وزیر اعظم ہاؤس نے اس خبر کی تیاری کے وقت تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا تھا۔
افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ کابل نہیں چاہتا کہ دونوں ملکوں کے اختلافات باہمی الزام تراشی اور پروپیگنڈے کا مستقل میدان بنیں۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ موقف دہرایا کہ افغانستان کسی بھی جارحیت کے خلاف دفاع کو اپنا جائز حق سمجھتا ہے۔ یہ بیان ایک طرف مذاکرات کی گنجائش ظاہر کرتا ہے، لیکن دوسری طرف دونوں حکومتوں کے درمیان موجود گہرے عدم اعتماد کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بنیادی اختلاف سرحد پار شدت پسندی کا مسئلہ ہے۔ اسلام آباد طویل عرصے سے الزام لگاتا آیا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود مسلح گروہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔ طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ پاکستان میں بڑھتی عسکریت پسندی بنیادی طور پر پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔ اس بنیادی اختلاف کے باعث سکیورٹی تعاون، سرحدی نقل و حرکت اور سفارتی رابطوں پر مسلسل دباؤ رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں دونوں جانب سے فوجی اقدامات اور سخت بیانات نے صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں متقی کی جانب سے سفارتی حل کی بات ایک اہم اشارہ ہے، تاہم کسی نئے رسمی مذاکراتی عمل، جنگ بندی یا باقاعدہ معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔ اس لیے فی الحال اس بیان کو ایک سیاسی اور سفارتی موقف سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی طے شدہ مفاہمتی فارمولے کے طور پر۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسلام آباد اور کابل عملی سطح پر رابطے بحال کرنے، سرحدی واقعات کو محدود کرنے اور شدت پسندی سے متعلق ایک دوسرے کے تحفظات پر قابل عمل طریقہ کار پر اتفاق کر پاتے ہیں یا نہیں۔
