جنوبی کوریا کی فوج نے 5 اکتوبر کو باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ غیر فوجی علاقے، ڈی ایم زیڈ، میں گزشتہ ماہ ہونے والا بارودی سرنگ دھماکا شمالی کوریا کی نصب کردہ اینٹی پرسنل مائن سے ہوا تھا۔ اس واقعے میں جنوبی کوریا کے دو فوجی شدید زخمی ہوئے تھے۔ سیول کے مطابق یہ نتیجہ اقوام متحدہ کمان کے ساتھ مشترکہ تحقیقات اور جائے وقوع سے حاصل ہونے والے سائنسی شواہد کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے نائب سربراہ کوون ڈائے وون نے بتایا کہ 21 ستمبر کو پھٹنے والی بارودی سرنگ فوجی حد بندی لائن کے جنوبی جانب نصب کی گئی تھی اور اندازہ ہے کہ اسے تقریباً ایک سال قبل سرحدی قلعہ بندی کے کام کے دوران رکھا گیا تھا۔ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اپریل 2024 سے سرحد پر باڑ، رکاوٹیں اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کا کام تیز کر چکا ہے۔ اس سال اس مقصد کے لیے ہزاروں کارکن تعینات کیے جانے اور سرحد عبور کرنے کے متعدد واقعات کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔
سیول نے پیانگ یانگ سے زخمی فوجیوں سے معافی مانگنے اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نصب کی گئی بارودی سرنگیں فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق اگر شمالی کوریا خود یہ مائنیں نہیں ہٹاتا تو جنوبی کوریا اپنی جانب سے صفائی کا عمل جاری رکھے گا۔ اقوام متحدہ کمان نے بھی گزشتہ ہفتے مشترکہ تحقیقات کے بعد فوجی حد بندی لائن کے جنوبی حصے میں ایک شمالی کوریائی اینٹی پرسنل مائن ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 1953 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
شمالی کوریا اس الزام کو مسترد کر چکا ہے۔ کم جونگ اُن کی بہن اور حکمران جماعت کی بااثر رہنما کم یو جونگ نے گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے معافی کے مطالبے کو بھی رد کر دیا تھا۔ اس لیے واقعے کی ذمہ داری کے بارے میں دونوں کوریاؤں کے بیانات ایک دوسرے سے متصادم ہیں، اگرچہ جنوبی کوریا اور اقوام متحدہ کمان کی مشترکہ تحقیقات سیول کے مؤقف کی بنیاد ہیں۔
جزیرہ نما کوریا میں 1950 سے 1953 تک جاری جنگ امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی پر ختم ہوئی تھی، اس لیے دونوں ممالک تکنیکی طور پر اب بھی حالت جنگ میں ہیں۔ جنوبی کوریا کی موجودہ حکومت نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مکالمے کی تجاویز دی ہیں، مگر شمالی کوریا نے حالیہ برسوں میں رابطے سے گریز کیا ہے اور جنوبی کوریا کو ایک دشمن ریاست قرار دیا ہے۔ تازہ تحقیق کے نتائج سے سرحدی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر بارودی سرنگیں ہٹانے کی کارروائی متنازع علاقوں کے قریب جاری رہتی ہے۔

