دی ہیگ: عالمی فوجداری عدالت کی پری ٹرائل چیمبر دوم نے افغانستان کی صورتحال سے متعلق چار گرفتاری وارنٹ غیر سیل کر دیے ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ وارنٹ طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ، سپریم کورٹ کے سربراہ عبدالحکیم حقانی، وزیر تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیر اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم کے خلاف پہلے جاری کیے گئے تھے اور اب ان کے عوامی، ترمیم شدہ نسخے جاری کر دیے گئے ہیں۔

آئی سی سی کی 5 اکتوبر 2026 کی پریس ریلیز کے مطابق اخوندزادہ اور حقانی کے وارنٹ 8 جولائی 2025 جبکہ آغا اور ندیم کے وارنٹ 9 ستمبر 2025 کو جاری ہوئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر اس کے پاس یہ ماننے کے معقول اسباب موجود ہیں کہ ملزمان نے مبینہ طور پر صنفی بنیادوں پر انسانیت کے خلاف جرم، یعنی persecution، کے ارتکاب کا حکم دیا، اس کی حوصلہ افزائی کی یا اسے ابھارا۔ یہ الزامات ابھی کسی ٹرائل میں ثابت نہیں ہوئے اور تمام متعلقہ افراد عدالتی فیصلہ آنے تک ملزم ہیں، مجرم قرار نہیں دیے گئے۔

عدالت کے مطابق مبینہ پالیسیوں کے ذریعے افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، نقل و حرکت، اظہار، نجی و خاندانی زندگی اور مذہبی و فکری آزادی سمیت متعدد بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا۔ آئی سی سی نے یہ بھی کہا کہ ایسے افراد کو بھی نشانہ بنائے جانے کے شواہد زیر غور آئے جو طالبان کی صنفی پالیسیوں سے متفق نہیں سمجھے گئے یا خواتین اور لڑکیوں کے حامی تصور کیے گئے۔

پری ٹرائل چیمبر نے کہا کہ وارنٹ عوامی کرنے کا مقصد بین الاقوامی تعاون میں اضافہ اور افغانستان سے متعلق جاری تحقیقات کو آگے بڑھانا ہے۔ عدالت نے بعض حصوں کو اب بھی ردعمل یا تحقیقات کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے حذف رکھا ہے۔ چاروں افراد فی الحال آئی سی سی کی حراست میں نہیں ہیں۔

آئی سی سی کے مطابق افغانستان میں مبینہ جرائم سے متعلق اس کی تحقیقات روم اسٹیٹیوٹ کے تحت جاری ہیں۔ عدالت گرفتاری کے لیے اپنی پولیس فورس نہیں رکھتی اور وارنٹ پر عمل درآمد کے لیے رکن ممالک اور دیگر متعلقہ ریاستوں کے تعاون پر انحصار کرتی ہے۔

افغان طالبان حکومت ماضی میں آئی سی سی کے اقدامات پر تنقید کرتی رہی ہے۔ تازہ وارنٹس کے غیر سیل ہونے کے بعد کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین صرف عدالتی کارروائی اور قابل قبول شواہد کی بنیاد پر ہی ہوگا۔