سیئول: شمالی کوریا نے نئے ڈیزائن کے فضائی دفاعی میزائل نظام کا تجربہ کرنے کے ساتھ طویل فاصلے کے کروز میزائل کی حملہ آور مشق بھی کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے نے بتایا کہ بدھ کو کیے گئے فضائی دفاعی تجربے میں نئے مواد، متعدد رہنمائی طریقوں اور ہدف کی شناخت و نگرانی کی صلاحیت کی جانچ کی گئی۔

کے سی این اے کے مطابق ملک کے مشرقی حصے میں تعینات طویل فاصلے کے اسٹریٹجک کروز میزائل یونٹ کی ایک ذیلی یونٹ نے ایک فرضی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ شمالی کوریا کی رپورٹ جنوبی کوریا کی فوج کے اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ پیانگ یانگ نے مشرقی ساحل کے سونڈوک علاقے سے سمندر کی جانب متعدد میزائل فائر کیے۔ رائٹرز کے مطابق یہ ایک ماہ کے دوران شمالی کوریا کا چوتھا ہتھیاروں سے متعلق لانچ تھا۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ابتدائی نگرانی کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ فائر کیے گئے میزائل ایک سے زیادہ اقسام کے ہو سکتے ہیں۔ شمالی کوریا کی جانب سے جاری تصاویر کے بارے میں Korea Defense & Security Forum کے سیکریٹری جنرل شن جونگ وو نے کہا کہ ایک کروز میزائل پر کلسٹر وارہیڈ جیسی ساخت دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق ممکنہ مقصد یہ جانچنا ہو سکتا ہے کہ وارہیڈ کسی ہدف کے علاقے پر پے لوڈ کس مؤثر انداز میں پھیلا سکتا ہے۔ یہ تجزیہ ماہر کی تشریح ہے، شمالی کوریا کی جانب سے اس مخصوص مقصد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

شن جونگ وو نے یہ بھی کہا کہ نومبر 2025 میں پہلی بار دکھائے گئے نئے فضائی دفاعی میزائل کے رہنمائی حصے میں روس کے ایس-400 سطح سے فضا میں مار کرنے والے نظام سے ظاہری مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ تاہم کسی نظام کی بیرونی مماثلت اس کی مکمل تکنیکی صلاحیت یا مشترکہ ماخذ کی حتمی تصدیق نہیں ہوتی۔

تازہ تجربات ایسے وقت ہوئے ہیں جب جزیرہ نما کوریا میں میزائل سرگرمیوں اور فوجی تیاریوں پر نگرانی بڑھ رہی ہے۔ شمالی کوریا اپنے تجربات کو دفاعی اور عسکری صلاحیت بہتر بنانے کے اقدامات قرار دیتا رہا ہے، جبکہ جنوبی کوریا اور اس کے اتحادی ایسے لانچوں کو علاقائی سلامتی کے تناظر میں قریب سے مانیٹر کرتے ہیں۔