پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے عیدک علاقے میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سرکاری خبر رساں اداروں اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کارروائی کی تفصیلات سکیورٹی ذرائع نے فراہم کیں، جن کا کہنا تھا کہ فورسز نے مطلوب افراد کا تعاقب کیا اور ان کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا۔
ریاستی ذرائع نے ہلاک ہونے والے افراد کے لیے ”فتنہ الخوارج“ کی اصطلاح استعمال کی، جو پاکستانی ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ آزاد ذرائع سے ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور کارروائی کی مکمل تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہوئیں، اس لیے رپورٹ میں سرکاری دعووں کو انہی کی نسبت سے بیان کیا جا رہا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق کارروائی عزمِ استحکام کے تحت جاری انسداد دہشت گردی اقدامات کے سلسلے میں کی گئی۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ فورسز دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں سکیورٹی فورسز کے کسی جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے عیدک میں کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ منظم کارروائیاں فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی عکاس ہیں، جبکہ صدر نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور دیرپا امن کے لیے کوششوں کو سراہا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کارروائی میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی تعریف کی۔
شمالی وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ اس واقعے میں تصدیق شدہ مرکزی پیش رفت یہ ہے کہ ریاستی ذرائع نے عیدک میں سات دہشت گردوں کی ہلاکت اور ان کے ٹھکانوں کی تباہی کی اطلاع دی ہے۔ ہلاک افراد کی انفرادی شناخت یا کسی مخصوص حملے سے تعلق کی مزید تفصیل سامنے آنے پر ہی اس پہلو کی حتمی تصدیق ممکن ہوگی۔
