کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے احمد وال میں آٹھ سالہ بچی سے مبینہ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد پولیس نے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون اور ڈیلی قدرت کی رپورٹوں کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ایک روز پہلے پیش آیا، بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال کوئٹہ منتقل کی گئی اور مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی۔

رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بچی کو قتل سے پہلے مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ اس مرحلے پر پولیس کا ابتدائی الزام ہے؛ پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک شواہد اور عدالت میں پیش ہونے والی شہادت کے نتائج دستیاب خبر میں حتمی طور پر سامنے نہیں آئے۔ اسی لیے واقعے کی نوعیت اور گرفتار افراد کے کردار کو ثابت شدہ عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کے دوران تین مشتبہ افراد کو حراست میں لینے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اطلاع دی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں ہر ملزم پر لگائی گئی مخصوص دفعات، گرفتاری کے مقام یا عدالت میں پیشی کی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ گرفتاری تفتیشی عمل کا مرحلہ ہے اور کسی شخص کو مجرم قرار دینے کے لیے قابلِ قبول شواہد اور عدالتی فیصلہ ضروری ہوتا ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے محکمہ داخلہ سے متعلق معاون بابر یوسفزئی نے کہا کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جائیں گی اور ذمہ دار قرار پانے والوں کو قانون کے مطابق سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ حکومتی یقین دہانی ہے؛ تحقیقات کی شفافیت اور قانونی نتیجہ مقدمے کی پیش رفت، شواہد کے تحفظ، پراسیکیوشن اور عدالتی کارروائی سے جانچا جائے گا۔

متاثرہ بچی کی شناخت اس کے تحفظ اور اہلِ خانہ کی رازداری کے لیے شائع نہیں کی جا رہی۔ کم سن متاثرین سے متعلق مقدمات میں نام، تصویر، رہائش کی باریک تفصیل یا ایسی معلومات سامنے لانا نقصان دہ ہوسکتا ہے جن سے شناخت ممکن ہو۔ اس خبر میں بھی صرف وہ معلومات شامل ہیں جو واقعے، گرفتاریوں اور سرکاری تفتیش کی موجودہ حیثیت سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر مادی شواہد تفتیش کا حصہ بنیں گے۔ اگلی قابلِ تصدیق پیش رفت میڈیکل یا فرانزک رپورٹ، ملزمان کی عدالت میں پیشی، جسمانی یا عدالتی ریمانڈ، چالان، فردِ جرم یا عدالتی فیصلے کی صورت میں ہوگی۔ اردو ہیڈ لائنز الزام، پولیس تفتیش، پراسیکیوشن کے دعوے اور حتمی عدالتی نتیجے کو الگ الگ مرحلے کے طور پر رپورٹ کرے گا اور متاثرہ خاندان کی شناخت محفوظ رکھے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک