پنجاب اسمبلی نے 31 اگست کو انسداد دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا، جبکہ اپوزیشن ارکان نے مجوزہ قانون کی آئینی اور قانونی نوعیت پر اعتراض کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اسپیکر ملک محمد احمد خان اور اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کے درمیان بل کے دائرۂ کار اور بنیادی حقوق سے متعلق شدید بحث ہوئی۔

اسپیکر نے رولنگ دی کہ آئین کے آرٹیکل 142 کی روشنی میں بل کو ایوان کے ایجنڈے پر لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے مقدمات میں گواہوں اور عدالتی عمل سے وابستہ افراد کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں سکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے مقدمات متاثر ہوئے۔ دوسری طرف اپوزیشن لیڈر نے قانون کو سخت اور سیاسی مخالفین کے خلاف ممکنہ استعمال کا ذریعہ قرار دیا۔ یہ اپوزیشن کا سیاسی مؤقف اور الزام ہے، اسے کسی عدالتی یا حتمی قانونی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

بل میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں نئی دفعہ 21AAA شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت ایسے مقدمات کے لیے ’’خصوصی سکیورٹی کیس‘‘ کا طریقہ کار بنایا جائے گا جہاں کارروائی میں شریک افراد کو غیر معمولی تحفظ درکار سمجھا جائے۔ مجوزہ انتظام کے مطابق کم از کم بی ایس 20 کا ایک نامزد افسر کسی مقدمے یا مقدمات کی ایک قسم کو خصوصی سکیورٹی کیس قرار دینے کے عمل میں کردار ادا کر سکے گا، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو مقدمہ سونپنے کی درخواست کی جا سکے گی۔

بل کی رپورٹ شدہ دفعات میں جج، سرکاری وکیل، وکیل صفائی، پولیس اہلکار، گواہ اور دیگر متعلقہ افراد کی شناخت ظاہر نہ کرنے، گواہوں کو کوڈ کے ذریعے شناخت دینے اور کارروائی محفوظ مقام یا ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کرنے کی گنجائش شامل ہے۔ بعض دفعات کے قانونی اثرات پر اپوزیشن نے سوال اٹھایا، بالخصوص منصفانہ ٹرائل، عدالتی شفافیت اور اپیل کے عمل کے حوالے سے۔

بحث کے بعد اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے نکل گئے۔ ایک رکن نے کورم کی نشاندہی بھی کی، تاہم حکومتی بنچوں نے مطلوبہ تعداد پوری کر لی۔ اپوزیشن کی عدم موجودگی میں ان کی مجوزہ ترامیم منظور نہ ہو سکیں اور ایوان نے بل کے حق میں ووٹ دے دیا۔

بل کی منظوری قانون سازی کے پارلیمانی مرحلے کی ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کی ہر شق کے عملی اور آئینی اثرات کا حتمی تعین متعلقہ قانونی عمل، نفاذ اور ممکنہ عدالتی جانچ سے ہوگا۔ اس رپورٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے دعووں کو ان کے اپنے مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور کسی متنازع قانونی نکتے پر آزادانہ حتمی فیصلہ اخذ نہیں کیا گیا۔