صدرِ مملکت آصف علی زرداری ویانا سے لندن پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا تقریباً دو ہفتے قیام متوقع ہے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق صدر کے برطانیہ میں قیام کے دوران مختلف طبی معائنے بھی متوقع ہیں۔ ان کے ہمراہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین موجود ہیں۔
رپورٹ نے صدر کی لندن آمد کو واقعہ کے طور پر بیان کیا ہے، جبکہ قیام کی مدت، طبی معائنوں اور ملاقاتوں سے متعلق تفصیلات ذرائع سے منسوب ہیں۔ اس فرق کو برقرار رکھتے ہوئے یہ کہنا درست ہے کہ ان سرگرمیوں کا امکان بتایا گیا ہے، نہ کہ ہر ملاقات یا معائنے کا مکمل سرکاری شیڈول جاری ہو چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری لندن میں کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے، البتہ مختلف وفود سے ملاقاتوں کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تقریباً چھ سال بعد صدر زرداری کا برطانیہ کا دورہ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بھی آئندہ چند روز میں لندن آمد متوقع بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں ان کی متوقع آمد کا ذکر موجود ہے، مگر کوئی قطعی تاریخ یا مکمل پروگرام نہیں دیا گیا، اس لیے اسے طے شدہ حتمی شیڈول کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
صدرِ مملکت کے بیرونِ ملک قیام سے متعلق سرکاری ذمہ داریوں، قائم مقام انتظام یا واپسی کی تاریخ کی کوئی اضافی تفصیل رپورٹ میں شامل نہیں۔ اس لیے خبر کا دائرہ صرف تصدیق شدہ آمد اور ذرائع سے منسوب متوقع قیام و ملاقاتوں تک محدود ہے۔ آئندہ ایوانِ صدر یا متعلقہ سرکاری دفتر کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری ہونے کی صورت میں دورے کے مقصد، ملاقاتوں اور واپسی کے شیڈول کی مزید تصدیق ہو سکے گی۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




