اسلام آباد: نیشنل ٹیرف کمیشن نے چین سے پاکستان آنے والے 48 انگلش کاؤنٹ اور اس سے زیادہ باریک کاٹن یارن کی درآمدات کے خلاف باضابطہ اینٹی ڈمپنگ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ کارروائی پانچ پاکستانی ٹیکسٹائل مینوفیکچررز کی درخواست پر شروع ہوئی ہے جن کا مؤقف ہے کہ مبینہ طور پر کم قیمت پر آنے والی چینی مصنوعات مقامی صنعت کو مادی نقصان پہنچا رہی ہیں۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق درخواست 30 ستمبر 2026 کو کالونی ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ ملتان، ڈائمنڈ انٹرنیشنل کارپوریشن لمیٹڈ کراچی، گدون ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کراچی، جے کے اسپننگ ملز فیصل آباد اور عمر اسپننگ ملز کراچی نے جمع کرائی تھی۔ یہ کمپنیاں 48 کاؤنٹ اور اس سے زیادہ کاٹن یارن تیار کرتی ہیں۔
کمیشن نے ابتدائی طور پر درخواست کے ساتھ فراہم کیے گئے مواد اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ تحقیقات شروع کرنے کے لیے معلومات کافی ہیں۔ تاہم تحقیقات کا آغاز اس بات کا حتمی فیصلہ نہیں کہ ڈمپنگ واقعی ہوئی ہے یا مقامی صنعت کو قانونی تعریف کے مطابق مادی نقصان پہنچا ہے۔ دونوں سوالات کا فیصلہ تفصیلی کارروائی اور متعلقہ فریقوں کے شواہد کے بعد ہوگا۔
تحقیقات میں خالص کاٹن کے ساتھ مصنوعی یا مین میڈ فائبرز سے ملا ہوا 48 کاؤنٹ اور اس سے زیادہ باریک دھاگا بھی شامل ہے۔ ڈمپنگ کے تعین کے لیے یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک کی مدت دیکھی جائے گی، جبکہ مقامی صنعت کو نقصان کے تجزیے کے لیے یکم جولائی 2023 سے 30 جون 2026 تک کے تین مالی سالوں کا ڈیٹا جانچا جائے گا۔
این ٹی سی نے دلچسپی رکھنے والے فریقوں کو دس دن کے اندر خود کو رجسٹر کرانے اور 30 دن کے اندر اپنے مؤقف، دستاویزات اور شواہد فراہم کرنے کی دعوت دی ہے۔ ابتدائی فیصلہ تحقیقات شروع ہونے کے 60 دن سے پہلے نہیں اور 180 دن سے بعد نہیں کیا جانا ہے۔ اگر کمیشن آخرکار ڈمپنگ اور مادی نقصان ثابت ہونے کا نتیجہ اخذ کرتا ہے تو قانون کے تحت اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کی جا سکتی ہے، لیکن اس مرحلے پر کوئی نئی ڈیوٹی نافذ ہونے کا دعویٰ درست نہیں ہوگا۔

