اسلام آباد: حکومت کے نئے یومیہ پیٹرولیم قیمتوں کے نظام کے تحت 28 اکتوبر کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 19 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق مقررہ یومیہ دورانیے کے لیے کیا گیا۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 376 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی، جو اس سے پہلے 379 روپے 25 پیسے تھی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 395 روپے 82 پیسے سے بڑھا کر 398 روپے 7 پیسے فی لیٹر کردی گئی۔ اس طرح دونوں اہم ایندھنوں کی قیمتوں نے ایک ہی دن میں مختلف سمت اختیار کی۔

پاکستان نے اکتوبر 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے یومیہ نظام متعارف کرایا تھا۔ اس طریقۂ کار میں عالمی منڈی کے نرخ اور شرح مبادلہ سمیت متعلقہ عوامل کی سات روزہ اوسط استعمال کی جاتی ہے، جس کا مقصد عالمی قیمتوں میں تبدیلی کو مقامی نرخوں میں نسبتاً تیزی سے منتقل کرنا ہے۔ اس سے قبل ملک میں قیمتوں کا تعین طویل وقفوں کے ساتھ کیا جاتا رہا تھا۔

پیٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی شہری سفر کے براہ راست اخراجات پر کچھ اثر ڈال سکتی ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل ٹرانسپورٹ، مال برداری، زراعت اور بعض صنعتی سرگرمیوں میں اہم ایندھن ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ نقل و حمل اور پیداواری لاگت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ تاہم کسی ایک روز کی تبدیلی کے مجموعی مہنگائی اثرات کا تعین متعدد دیگر عوامل پر بھی منحصر ہوتا ہے۔

یومیہ قیمتوں کے نظام کے باعث صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے ایندھن کے نرخ زیادہ تواتر سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور وہ کاروبار جن کی لاگت میں ایندھن کا حصہ زیادہ ہے، مختصر مدت کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو زیادہ قریب سے دیکھتے ہیں۔

تازہ اعلان میں رپورٹ شدہ قیمتیں 28 اکتوبر کے مقررہ نرخ ہیں اور آئندہ یومیہ جائزے میں عالمی تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور حساب کے دیگر متعلقہ عناصر کے مطابق دوبارہ تبدیل ہو سکتی ہیں۔ اس لیے انہیں طویل مدت کے لیے مستقل نرخ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔