اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کو مؤثر بنانے کے لیے تنظیم نو کا منصوبہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ کمیٹی کو چار ہفتوں کے اندر سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومتی جائزے میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے مضبوط مرکزی ادارہ جاتی رابطے، ڈیجیٹل رجسٹریشن اور قابل توسیع کاروباری خدمات کو کامیاب بین الاقوامی ماڈلز کی مشترکہ خصوصیات قرار دیا گیا۔

سمیڈا کا بنیادی کردار ملک میں ایس ایم ای شعبے کی پالیسی معاونت، کاروباری ترقی، تربیت، معلومات اور سہولت کاری سے متعلق ہے۔ تاہم حکومت کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ ادارہ جاتی ڈھانچے میں رابطے، عمل درآمد اور کاروباری خدمات کی رسائی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تنظیم نو کمیٹی سے توقع ہے کہ وہ اختیارات، انتظامی ڈھانچے اور خدمات کی فراہمی کے طریقوں کا جائزہ لے گی۔

پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار روزگار، مقامی پیداوار اور برآمدات کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں، لیکن انہیں قرض تک رسائی، دستاویزی تقاضوں، ٹیکس و ریگولیٹری پیچیدگی اور ٹیکنالوجی اپنانے جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ڈیجیٹل رجسٹریشن کے ذریعے کاروباروں کو رسمی معیشت میں شامل کرنے اور سرکاری معاونت تک رسائی آسان بنانے کا ہدف رکھا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے طریقہ کار کی سادگی اور ڈیٹا کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہوگی۔

کمیٹی کو مختلف ممالک کے ایس ایم ای ماڈلز سے سیکھنے اور پاکستان کے لیے قابل عمل تجاویز تیار کرنے کا کہا گیا ہے۔ مرکزی رابطے کا مقصد مختلف وزارتوں، صوبائی اداروں، مالیاتی اداروں اور کاروباری معاونت پروگراموں کے درمیان پالیسی تضاد اور دہراؤ کم کرنا بتایا گیا ہے۔

چار ہفتوں کی مدت سفارشات تیار کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے؛ ابھی حتمی تنظیم نو، بجٹ یا قانونی تبدیلیوں کی منظوری نہیں ہوئی۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو اصلاحاتی عمل کا ابتدائی مرحلہ سمجھا جانا چاہیے۔ عملی اثر اس وقت واضح ہوگا جب حکومت کمیٹی کی سفارشات پر فیصلہ کرے گی اور ان کے نفاذ کے لیے وسائل اور ٹائم لائن مقرر کرے گی۔