اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان کی کینو برآمدات میں طویل عرصے سے موجود رکاوٹوں کے حل اور عالمی سٹرس مارکیٹ میں ملک کا حصہ بڑھانے کے لیے پانچ سالہ روڈمیپ تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ تجویز وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی، جس کی صدارت وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کی۔

اجلاس میں 41 متعلقہ اداروں اور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے پیداوار، معیار، پیکنگ، کولڈ چین، بندرگاہی سہولیات، مارکیٹ رسائی اور برآمدی لاگت جیسے عوامل کا جائزہ لیا جو پاکستانی کینو کی مسابقت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ محکموں سے کہا کہ مسائل کو وقتی اقدامات کے بجائے ایک مربوط پانچ سالہ منصوبے میں شامل کیا جائے۔

اجلاس میں وزیراعظم کی جانب سے پورٹ قاسم پر کینو برآمد کنندگان کے لیے 60 فیصد ٹیرف رعایت کی ہدایت پر عمل درآمد بھی زیر بحث آیا۔ برآمد کنندگان طویل عرصے سے بندرگاہی چارجز، شپنگ اخراجات اور لاجسٹکس کو اہم مسائل قرار دیتے رہے ہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے رعایت کے عملی نفاذ اور برآمدی سیزن کے دوران سہولت کاری کے اقدامات پر پیش رفت طلب کی۔

پاکستان کا کینو بالخصوص پنجاب کے سٹرس پیدا کرنے والے علاقوں سے آتا ہے اور روس، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دیگر منڈیوں میں برآمد کیا جاتا ہے۔ تاہم معیار کے یکساں معیار، بیماریوں، بیجوں کی اقسام، بعد از برداشت نقصانات اور بین الاقوامی فائیٹو سینیٹری تقاضوں جیسے مسائل برآمدی امکانات کو محدود کر سکتے ہیں۔

پانچ سالہ روڈمیپ سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں نئی منڈیوں تک رسائی، باغات کی پیداواری صلاحیت، بیماریوں سے پاک پودوں، جدید پیک ہاؤسز، ٹریس ایبلٹی اور برآمدی معیار بہتر بنانے کے اہداف شامل کیے جائیں گے۔ اجلاس میں مختلف سرکاری و نجی اداروں کو ڈیٹا اور تجاویز فراہم کرنے کی ذمہ داریاں بھی دی گئیں تاکہ پالیسی حقیقی پیداواری اور تجارتی اعدادوشمار پر مبنی ہو۔

حکومت کی ہدایت فی الحال روڈمیپ کی تیاری سے متعلق ہے؛ پانچ سال میں برآمدات کی کوئی مخصوص حتمی مقدار یا آمدنی اس مرحلے پر یقینی نتیجے کے طور پر طے نہیں کی گئی۔ عملی کامیابی کا انحصار صوبائی زرعی اداروں، وفاقی تجارتی حکام، بندرگاہی انتظامیہ، برآمد کنندگان اور کاشتکاروں کے درمیان مربوط عمل درآمد پر ہوگا۔

کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو روایتی منڈیوں کے ساتھ نئی منڈیوں کے تقاضوں پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ آئندہ مراحل میں روڈمیپ کی مدت وار ترجیحات، مالی ضروریات اور ذمہ دار اداروں کی تفصیل سامنے آنے کی توقع ہے، جس کے بعد برآمدی اہداف کے حصول کی پیش رفت کو جانچا جا سکے گا۔