کراچی: تقریباً 51 ہزار میٹرک ٹن درآمدی گندم لے کر بحری جہاز کراچی بندرگاہ پہنچ گیا ہے، جسے ملک میں گندم کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کی درآمدی سرگرمی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈان کے مطابق جہاز کو کراچی پورٹ کے برتھ نمبر 16 اور 17 کے قریب لنگر انداز کیا گیا اور کارگو اتارنے کے انتظامات شروع کیے گئے۔
حکام کے مطابق درآمدی گندم کی کلیئرنس میں کسٹمز، پلانٹ پروٹیکشن اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانچ شامل ہوگی۔ خوراک کے لیے درآمد ہونے والی زرعی اجناس پر معیار، فائیٹو سینیٹری شرائط اور دستاویزی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوتی ہے، جس کے بعد کھیپ کو اندرون ملک منڈی اور ذخیرہ گاہوں کی جانب منتقل کیا جا سکتا ہے۔
گندم کی درآمد کا معاملہ حالیہ مہینوں میں ملک میں آٹے اور گندم کی قیمتوں، سرکاری ذخائر اور صوبائی خریداری کے فیصلوں کے تناظر میں اہم رہا ہے۔ وفاقی سطح پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں گندم سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی قیمت، دستیابی، درآمدی ضرورت اور صوبوں کے ساتھ رابطے کا جائزہ لیتی رہی ہے۔
نجی درآمد کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں اضافی سپلائی لانا ہے، تاہم اس کا آٹے کی خوردہ قیمت پر اثر صرف درآمدی مقدار سے طے نہیں ہوگا۔ عالمی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، سمندری مال برداری، بندرگاہی اخراجات، اندرون ملک ٹرانسپورٹ، ذخیرہ اور ملنگ لاگت بھی حتمی قیمت پر اثر ڈالتی ہے۔
پاکستان میں گندم ایک حساس زرعی اور غذائی جنس ہے کیونکہ مقامی کاشتکاروں کی آمدن اور شہری صارفین کے آٹے کے اخراجات دونوں اس کی پالیسی سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ درآمد مقامی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے، جبکہ کم رسد کی صورت میں آٹے کی قیمت اور دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے حکومت کو درآمدی فیصلوں کے ساتھ مقامی پیداوار اور ذخائر کا توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
کراچی بندرگاہ پہنچنے والی موجودہ کھیپ کو فوری طور پر مکمل ملکی قلت کے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کا عملی اثر کھیپ کی کلیئرنس، مارکیٹ میں تقسیم اور آئندہ درآمدی مقدار کے بعد واضح ہوگا۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے معیار کی جانچ مکمل ہونے کے بعد گندم کو تجارتی چین میں شامل کیا جائے گا۔
حکام اور مارکیٹ شرکا آئندہ ہفتوں میں مزید کھیپوں، مقامی ذخائر اور قیمتوں کی صورت حال پر نظر رکھیں گے۔ صارفین کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ اضافی رسد تھوک اور خوردہ سطح پر آٹے کی قیمت اور دستیابی میں کس حد تک بہتری لاتی ہے۔

