اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ کمیٹی نے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سمیڈا، کی تنظیم نو کے لیے چار ہفتوں میں جامع منصوبہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے کا مقصد کاروباری معاونت کا دائرہ وسیع کرنا اور مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے مالی سہولت اور ادارہ جاتی خدمات تک رسائی بہتر بنانا ہے۔
ڈان کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کر رہے ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ چھوٹے کاروباروں کو آسان مالی رسائی، کاروباری مشاورت اور مضبوط ادارہ جاتی مدد درکار ہے تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں شروع کرنے، بڑھانے اور رسمی معیشت سے بہتر طور پر منسلک ہونے کے قابل ہو سکیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ سمیڈا کی تنظیم نو کا مقصد خدمات کو بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے چھوٹی دیہی آبادیوں تک پہنچانا بھی ہے۔ ان کے مطابق خواہش مند کاروباری افراد کو حکومتی معاونت، رہنمائی اور دستیاب سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع بڑھائے جائیں گے۔
پاکستان میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار روزگار، مقامی پیداوار اور خدمات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن رسمی قرض تک محدود رسائی، دستاویزی تقاضے، کاروباری مہارت اور مارکیٹ روابط کی کمی ان کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ مجوزہ تنظیم نو انہی مسائل سے نمٹنے کے لیے ادارے کے کردار اور خدمات کا دوبارہ جائزہ لینے کی کوشش ہے۔
چار ہفتوں کی مدت میں تیار ہونے والے منصوبے میں سمیڈا کے انتظامی ڈھانچے، ملک گیر رسائی، مشاورتی خدمات اور فنانسنگ سے متعلق معاونت کے طریقوں پر سفارشات متوقع ہیں۔ تاہم کمیٹی کی حتمی سفارشات اور ان پر حکومت کی منظوری ابھی سامنے آنا باقی ہے، اس لیے موجودہ مرحلے کو اصلاحاتی عمل کا آغاز سمجھا جائے گا، مکمل شدہ اصلاح نہیں۔
چھوٹے کاروباروں کے لیے مالی رسائی بڑھانے میں صرف قرض کی دستیابی کافی نہیں ہوتی؛ قرض کی لاگت، ضمانت کے تقاضے، کاروباری ریکارڈ، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالی خواندگی جیسے عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔ اسی طرح دیہی علاقوں تک خدمات کی توسیع کے لیے مقامی اداروں، بینکوں اور کاروباری تنظیموں کے درمیان عملی رابطہ درکار ہوگا۔
کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ حکومت سمیڈا کے موجودہ مینڈیٹ، عملے، علاقائی موجودگی اور پروگراموں میں کس نوعیت کی تبدیلی تجویز کرتی ہے اور ان اقدامات کے لیے وسائل اور نفاذ کا شیڈول کیا ہوگا۔

