کیلیفورنیا: امریکی چپ ساز کمپنی این ویڈیا نے اپنے شیئر بائیک بیک پروگرام میں مزید 150 ارب ڈالر شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے، جسے رائٹرز نے کسی کمپنی کی جانب سے شیئرز کی دوبارہ خریداری کی اجازت میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کمپنی کے پاس مالی سال 2028 تک اپنے حصص واپس خریدنے کے لیے باقی مجاز گنجائش تقریباً 235 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق این ویڈیا نے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب مصنوعی ذہانت کے لیے چپس اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی طلب بدستور بلند ہے، مگر سرمایہ کار اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ اے آئی سے متعلق بہت بڑے سرمایہ جاتی اخراجات کتنے عرصے تک موجودہ رفتار سے جاری رہ سکتے ہیں۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ نے کہا کہ مضبوط نقد آمدن این ویڈیا کو نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کے ساتھ حصص داروں کو سرمایہ واپس کرنے کی گنجائش دیتی ہے۔

کمپنی نے جولائی کی سہ ماہی کے اختتام پر 22.44 ارب ڈالر نقد اور مساوی اثاثے رپورٹ کیے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ این ویڈیا کے حصص میں اعلان کے بعد دو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ کمپنی نے گزشتہ ماہ مالی سال 2028 کے لیے تقریباً 70 فیصد آمدنی میں اضافے کی پیش گوئی بھی کی تھی، جو اس کے مطابق اے آئی ٹریننگ اور انفرنس کے لیے پروسیسرز کی مضبوط مانگ سے جڑی ہے۔

شیئر بائیک بیک میں کمپنی مارکیٹ سے اپنے حصص واپس خریدتی ہے، جس سے گردش میں موجود حصص کی تعداد کم ہو سکتی ہے اور فی شیئر مالی اشاریوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم بائیک بیک کی اجازت اس بات کی ضمانت نہیں کہ پوری رقم فوراً یا لازماً خرچ ہوگی؛ خریداری کا وقت اور حجم مارکیٹ حالات، سرمایہ کاری کی ضروریات اور کمپنی کے فیصلوں پر منحصر رہتا ہے۔

یہ اعلان اس پس منظر میں بھی اہم ہے کہ اے آئی چپ مارکیٹ میں اے ایم ڈی اور انٹیل سمیت حریف اپنی مصنوعات اور سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔ این ویڈیا کا ریکارڈ بائیک بیک پروگرام کمپنی کے دستیاب سرمائے کے استعمال کی ایک بڑی ترجیح کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ مستقبل میں اس پروگرام کے اثرات کا اندازہ اصل خریداریوں، آمدنی کی رفتار اور اے آئی انفراسٹرکچر پر عالمی اخراجات کے رجحان سے ہوگا۔