اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں بعد از ٹیکس منافع 58.5 ارب روپے رپورٹ کیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 38.3 ارب روپے کے مقابلے میں 52.7 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کے مطابق بہتر مالی نتائج میں بلند بین الاقوامی قیمتوں اور تیل و گیس کی زیادہ پیداوار نے اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سہ ماہی نتائج کے ساتھ پانچ روپے فی حصص عبوری نقد منافع کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ او جی ڈی سی ایل کی پہلی سہ ماہی کے لیے اب تک کی بلند ترین ادائیگی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 3.50 روپے فی حصص عبوری منافع دیا گیا تھا۔
او جی ڈی سی ایل کی خالص فروخت کی آمدن 38 فیصد اضافے کے ساتھ 132.4 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو ایک سال پہلے 96.2 ارب روپے تھی۔ بعد از ٹیکس منافع 38.3 ارب روپے سے بڑھ کر 58.5 ارب روپے ہونے کے نتیجے میں فی حصص آمدن بھی 8.91 روپے سے بڑھ کر 13.60 روپے ہوگئی۔
کمپنی نے بتایا کہ پیداوار کے حجم اور حاصل ہونے والی قیمتوں میں بہتری نے نتائج کو سہارا دیا، تاہم جبری پیداواری کٹوتیوں اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے نے اس مثبت اثر کو جزوی طور پر محدود کیا۔ توانائی کے شعبے میں پیداواری کٹوتیاں اس وقت اہم کاروباری مسئلہ رہتی ہیں کیونکہ مقامی طلب، ترسیلی نظام اور ادائیگیوں کے مسائل کمپنیوں کی پیداوار اور نقد بہاؤ پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سہ ماہی کے دوران بلنگ کے مقابلے میں وصولیوں کی شرح 100 فیصد رہی۔ او جی ڈی سی ایل نے ٹیکس، منافع، رائلٹی اور دیگر محصولات کی مد میں قومی خزانے کو 82 ارب روپے فراہم کیے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ مقامی تیل و گیس پیداوار کے ذریعے درآمدی متبادل پیدا ہونے سے ملک کو اندازاً 1.32 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی۔
او جی ڈی سی ایل پاکستان کی بڑی سرکاری فہرست شدہ تلاش و پیداوار کمپنیوں میں شامل ہے، اس لیے اس کے مالی نتائج توانائی کی مقامی پیداوار، سرکاری محصولات اور درآمدی بل کے تناظر میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تازہ سہ ماہی اعداد و شمار کمپنی کی آمدن اور منافع میں نمایاں اضافہ دکھاتے ہیں، تاہم آئندہ کارکردگی کا انحصار عالمی توانائی قیمتوں، مقامی پیداوار، روپے کی قدر اور پیداواری کٹوتیوں کی صورتحال پر رہے گا۔
