کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اوپن بینکنگ کے مسودہ ضوابط عوامی مشاورت کیلئے جاری کر دیے ہیں، جن کا مقصد ڈیجیٹل مالیاتی خدمات میں مسابقت، جدت اور صارفین کیلئے زیادہ مؤثر خدمات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ مرکزی بینک نے مالیاتی اداروں، فن ٹیک کمپنیوں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں، صارف گروپوں، جامعات اور عام شہریوں سے 30 نومبر 2026 تک تجاویز اور آرا طلب کی ہیں۔

مجوزہ فریم ورک کا بنیادی اصول یہ ہے کہ صارف اپنے مالی ڈیٹا پر زیادہ اختیار رکھے اور اس کی واضح رضامندی کے بعد مخصوص معلومات مجاز تھرڈ پارٹی پرووائیڈرز کے ساتھ محفوظ طریقے سے شیئر کی جا سکیں۔ اسی طرح مجاز تھرڈ پارٹیز کے ذریعے کاروباری ادائیگیاں شروع کرنے کی سہولت بھی مجوزہ نظام کا حصہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس عمل کیلئے سکیورٹی، رازداری اور صارف تحفظ کے تقاضے ضوابط میں شامل کیے گئے ہیں۔

مسودے میں کاروبار سے کاروبار اور صارف سے کاروبار ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن کو سہولت دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ رضامندی پر مبنی مالی ڈیٹا شیئرنگ کو بہتر کریڈٹ اسیسمنٹ، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کیلئے فنانسنگ تک رسائی اور صارف کی ضرورت کے مطابق مالی مصنوعات تیار کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان فوائد کا عملی حصول اس بات پر منحصر ہوگا کہ حتمی ضوابط کے تحت کون سے ادارے مجاز ہوں گے، ڈیٹا تک رسائی کی حدود کیا ہوں گی اور صارف کی رضامندی واپس لینے کا طریقہ کس طرح کام کرے گا۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مسودہ بین الاقوامی بہترین طریقوں اور اوپن بینکنگ سے متعلق مرکزی بینک کے حالیہ ریگولیٹری سینڈ باکس کے پہلے کوہورٹ کے نتائج کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ فریم ورک میں ڈیٹا تحفظ، پرائیویسی، سائبر سکیورٹی، فراڈ کی روک تھام اور صارفین کے تحفظ کیلئے حفاظتی اقدامات شامل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اوپن بینکنگ روایتی بینکاری ماڈل میں ایک اہم تبدیلی سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس میں بینک یا مالیاتی ادارے کے پاس موجود صارف ڈیٹا کو صارف کی اجازت سے دوسرے مجاز سروس پرووائیڈر کے ساتھ قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ اس سے نئی ادائیگی ایپس، مالی انتظام کے اوزار اور متبادل کریڈٹ تشخیص جیسی خدمات سامنے آ سکتی ہیں، لیکن اسی کے ساتھ ڈیٹا کے غلط استعمال اور سائبر حملوں کے خطرات کیلئے مضبوط نگرانی بھی ضروری ہوتی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ موجودہ دستاویز حتمی ضابطہ نہیں بلکہ مشاورت کیلئے مسودہ ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کی آرا کے بعد متن میں تبدیلی ممکن ہے۔ حتمی قواعد نافذ ہونے کی صورت میں پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں بینکوں، فن ٹیک اداروں اور مجاز تھرڈ پارٹی سروسز کے درمیان ڈیٹا اور ادائیگی رابطوں کیلئے باقاعدہ ریگولیٹری بنیاد فراہم ہو سکتی ہے۔