اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب نے توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور ملک میں اسٹریٹجک و کمرشل تیل ذخائر کے قیام سے متعلق امکانات پر غور کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن سے متعلق رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کے درمیان ملاقات میں توانائی سلامتی، سرمایہ کاری اور پیٹرولیم انفراسٹرکچر سے متعلق متعدد پہلو زیر بحث آئے۔
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اپنی توانائی ضروریات اور سپلائی چین کی پائیداری بہتر بنانے کے لیے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ چاہتا ہے۔ اس تناظر میں اسٹریٹجک آئل ریزروز ایسے ذخائر ہوتے ہیں جنہیں ہنگامی حالات، عالمی رسد میں خلل یا غیر معمولی قیمتوں کے دوران استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ کمرشل ذخائر مارکیٹ کی معمول کی ضروریات اور کاروباری سرگرمیوں میں معاون ہوتے ہیں۔
دونوں فریقوں نے ریفائننگ کے شعبے میں ممکنہ تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان طویل عرصے سے اپنی موجودہ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن اور جدید ریفائننگ صلاحیت کے اضافے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ سعودی عرب توانائی کے عالمی شعبے میں نمایاں کردار رکھتا ہے اور پاکستان کے ساتھ اس کے اقتصادی تعلقات میں تیل کی فراہمی اور سرمایہ کاری اہم عناصر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیر پیٹرولیم نے سعودی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں موجود مواقع کا ذکر کیا اور توانائی کے شعبے میں ادارہ جاتی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سعودی سفیر نے دونوں ملکوں کے قریبی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے تعاون کے امکانات پر بات کی۔ تاہم زیر بحث منصوبوں کے حجم، لاگت، مقام، مالیاتی ڈھانچے یا حتمی ٹائم لائن کے بارے میں کوئی قطعی معاہدہ یا تفصیلی اعلان سامنے نہیں آیا۔
اس لیے موجودہ پیش رفت کو حتمی سرمایہ کاری فیصلے کے بجائے پالیسی اور سرمایہ کاری سطح کی بات چیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کسی بھی اسٹریٹجک ذخیرہ یا ریفائنری منصوبے کے عملی مرحلے میں داخل ہونے کے لیے تکنیکی مطالعات، تجارتی شرائط، سرمایہ کاری کے انتظامات اور متعلقہ سرکاری منظوریوں کی ضرورت ہوگی۔
