اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے طویل عرصے سے لازمی قانونی گوشوارے جمع نہ کرانے والی 39,704 کمپنیوں کے خلاف ضابطہ جاتی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمیشن ان کمپنیوں کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت نوٹس جاری کرے گا تاکہ مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں انہیں غیر فعال قرار دینے یا رجسٹر سے نام خارج کرنے کے قانونی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

کمپنیوں کے لیے سالانہ ریٹرنز، مالیاتی معلومات اور دیگر مقررہ دستاویزات جمع کرانا کارپوریٹ شفافیت اور رجسٹری کی درستگی کے لیے بنیادی تقاضا ہے۔ مسلسل نان فائلنگ سے ریگولیٹر کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کوئی رجسٹرڈ کمپنی حقیقتاً کاروبار کر رہی ہے، اس کی انتظامیہ فعال ہے یا وہ عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکی ہے۔ اسی لیے ایس ای سی پی وقتاً فوقتاً رجسٹر میں موجود ایسی کمپنیوں کی جانچ کرتا ہے جو قانونی فائلنگ کی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہیں۔

موجودہ اقدام کا مطلب یہ نہیں کہ تمام 39,704 کمپنیوں کو فوری طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ قانونی طریقہ کار میں نوٹس، جواب دینے کا موقع اور متعلقہ دفعات کے تحت مزید کارروائی شامل ہو سکتی ہے۔ کسی کمپنی کی حتمی حیثیت اس کے ریکارڈ، جواب اور قانون کے تحت کیے جانے والے فیصلے پر منحصر ہوگی۔

ریگولیٹری سطح پر ایسی کارروائی کا ایک مقصد کارپوریٹ رجسٹر کو فعال کاروباری اداروں کی حقیقی صورت حال کے قریب رکھنا بھی ہے۔ غیر فعال یا طویل عرصے سے عدم تعمیل کرنے والی کمپنیوں کی بڑی تعداد سرمایہ کاروں، قرض دہندگان اور کاروباری شراکت داروں کے لیے دستیاب سرکاری معلومات کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔ درست اور بروقت فائلنگ سے کمپنی کی قانونی حیثیت، انتظامی ڈھانچے اور مالیاتی جواب دہی سے متعلق بنیادی معلومات قابل اعتماد رہتی ہیں۔

متاثرہ کمپنیوں کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ نوٹس ملنے کی صورت میں انہیں مقررہ مدت کے اندر قانونی تقاضوں اور ریگولیٹر کی ہدایات کا جائزہ لینا ہوگا۔ جو کمپنیاں کاروبار جاری رکھنا چاہتی ہیں ان کے لیے عدم تعمیل دور کرنا ضروری ہوگا، جبکہ واقعی غیر فعال اداروں کے لیے قانون میں موجود متعلقہ طریقہ کار کے مطابق حیثیت طے کی جا سکتی ہے۔