کراچی: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا ہے کہ اس کے رکن اداروں کے زیر التوا انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مجموعی رقم 102 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ چیمبر نے اس صورت حال کو کاروباری اداروں کے کیش فلو اور سرمایہ کاری کے ماحول سے جوڑتے ہوئے ریفنڈ کے عمل میں تیزی اور پیش گوئی کے قابل نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ٹیکس ریفنڈ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی کمپنی یا ٹیکس دہندہ کی ادا شدہ یا کٹی ہوئی ٹیکس رقم اس کی حتمی واجب الادا ذمہ داری سے زیادہ ہو، یا برآمدی اور کاروباری لین دین کے تحت قانوناً واپسی بنتی ہو۔ بڑے کاروباری اداروں کے لیے طویل عرصے تک رقم زیر التوا رہنے سے ورکنگ کیپیٹل متاثر ہو سکتا ہے اور نئی سرمایہ کاری، خام مال کی خریداری یا دیگر آپریشنل اخراجات کے لیے دستیاب نقدی کم ہو سکتی ہے۔
او آئی سی سی آئی پاکستان میں کام کرنے والی متعدد بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری والی کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لیے اس کے ارکان کے ریفنڈز کا حجم غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تجربے اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی سے متعلق ایک اہم کاروباری اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم 102 ارب روپے کا عدد چیمبر کے ارکان کے دعووں اور زیر التوا معاملات سے متعلق ہے، اسے تمام پاکستانی ٹیکس دہندگان کے مجموعی ریفنڈز کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ایف بی آر نے حالیہ برسوں میں ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل بنانے، ریفنڈ پراسیسنگ خودکار کرنے اور تعمیل بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ کاروباری برادری کی جانب سے اس کے باوجود تاخیر، دستاویزی تقاضوں اور تصدیقی مراحل کے بارے میں شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
زیر التوا ریفنڈز کے حتمی تصفیے کا انحصار متعلقہ دعووں کی جانچ، قانونی اہلیت اور ایف بی آر کے پراسیسنگ نظام پر ہوگا۔ چیمبر کا مطالبہ ہے کہ جائز ریفنڈز بروقت ادا کیے جائیں تاکہ کاروباری نقد بہاؤ پر دباؤ کم ہو اور سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس نظام زیادہ قابل پیش گوئی بن سکے۔

