عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پیر کو گزشتہ ہفتے کی تقریباً چھ ماہ کی بلند ترین سطحوں سے نیچے آ گئیں، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امید نے فوری رسدی خدشات کو کچھ حد تک کم کیا۔ تاہم سعودی عرب میں توانائی اور دیگر تنصیبات پر جاری حملوں اور اہم بحری راستوں سے متعلق خطرات کے باعث تاجروں کی محتاط پوزیشن برقرار رہی۔

رائٹرز کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق صبح کے کاروبار میں برینٹ خام تیل کے سودے 2.21 ڈالر یا 1.89 فیصد کمی کے ساتھ 114.51 ڈالر فی بیرل پر آئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.23 ڈالر یا 2.16 فیصد گھٹ کر 101.04 ڈالر فی بیرل رہا۔ جمعہ کو دونوں بینچ مارکس میں اضافہ ہوا تھا، جب سعودی عرب پر حوثی حملوں نے توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات کو بڑھایا۔ برینٹ نے گزشتہ ہفتہ مجموعی طور پر چھ فیصد اضافے کے ساتھ ختم کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق قطر کے ثالث اتوار کو تہران پہنچے، جہاں علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں امریکا کے ساتھ رابطے میں جاری ہیں۔ اس سفارتی سرگرمی نے مارکیٹ میں فوری فوجی تصادم کے خدشات کچھ کم کیے، لیکن تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے ہفتے کے اختتام پر سعودی عرب میں ایک ہوائی اڈے اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام نے مزید میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی اطلاع دی۔ ان واقعات کی وجہ سے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ترسیلی راستوں کے تحفظ سے متعلق خطرات بدستور قیمتوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی چین پر بھی پڑے ہیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم راستوں میں خلل کے خدشات نے کمپنیوں کو متبادل انتظامات اور ذخیرہ اندوزی کی حکمت عملیوں پر مجبور کیا ہے۔ پیر کو سعودی عرب اور سنگاپور کے وزرائے توانائی نے یہ بھی بتایا کہ سعودی آرامکو 2027 کی دوسری ششماہی سے سنگاپور میں خام تیل ذخیرہ کرنا شروع کرے گی تاکہ ایشیائی سپلائی چین کی لچک بڑھائی جا سکے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے بھی سنگاپور میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ 2027 میں توانائی کی منڈیاں ایران جنگ سے پہلے والی حالت میں مکمل طور پر واپس آ جائیں گی۔ موجودہ قیمتوں میں کمی اس لیے کسی مستقل استحکام کی ضمانت نہیں، اور آئندہ سمت کا انحصار سفارتی پیش رفت، علاقائی حملوں اور اہم بحری راستوں کی عملی صورتحال پر ہوگا۔