راولپنڈی: راولپنڈی اور اسلام آباد میں سرد موسم کے آغاز کے ساتھ قدرتی گیس کی محدود فراہمی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے گھریلو اور تجارتی صارفین کو متبادل ایندھن کی طرف جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ مقامی صارفین اور کاروباری نمائندوں کے مطابق کئی علاقوں میں پائپ لائن گیس دن کے محدود اوقات میں دستیاب ہے، جبکہ ایل پی جی کی مارکیٹ قیمت سرکاری مقررہ نرخ سے کہیں زیادہ وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی مقررہ قیمت 279 روپے فی کلو بتائی گئی ہے۔ 11 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر تقریباً 6,500 روپے اور کمرشل سلنڈر 25 ہزار روپے سے زیادہ میں دستیاب ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ قیمتیں مقامی مارکیٹ سے رپورٹ کی گئی ہیں اور مختلف دکانداروں یا علاقوں میں فرق ممکن ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ سوئی گیس کی فراہمی کم ہونے اور پریشر کے مسائل کے باعث روزمرہ کھانا پکانے کا معمول متاثر ہوا ہے۔ بعض صارفین نے لکڑی اور کوئلے کا استعمال شروع کر دیا ہے، جبکہ ایل پی جی خریدنے والے گھرانوں کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ راولپنڈی کے بعض رہائشیوں نے یہ شکایت بھی کی کہ تجارتی یونٹس کی جانب سے کمپریسر کے استعمال سے رہائشی علاقوں میں گیس پریشر مزید متاثر ہوتا ہے۔
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے حکام کے مطابق کمپنی نے ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے اوقات کے لیے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ کمپنی کے پاس ایل پی جی دستیاب نہیں اور جڑواں شہروں میں صارفین کو سلنڈرز کی فراہمی تقریباً دو ماہ سے بند ہے۔ ان کے مطابق کراچی بندرگاہ پر ایل پی جی پہنچنے کے بعد سلنڈر سپلائی دوبارہ شروع کرنے کا امکان ہے۔
ایل پی جی کاروباری نمائندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی ایل پی جی کا بڑا حصہ درآمدی ہے اور بین الاقوامی تیل و گیس ٹرانسپورٹ میں رکاوٹوں نے قیمت اور دستیابی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ موسم سرما میں طلب بڑھنے سے قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ دوسری طرف صارفین اور کاروباری تنظیموں نے ضلعی انتظامیہ اور اوگرا سے مقررہ قیمتوں کے نفاذ کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ریستوران، بیکریاں اور دیگر خوراکی کاروبار بھی گیس کی محدود فراہمی سے متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں مہنگی ایل پی جی پر منتقل ہونا پڑ رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں قیمتوں اور قلت کے بارے میں مختلف دعوے صارفین، کاروباری نمائندوں اور کمپنی حکام کے بیانات پر مبنی ہیں؛ رسد میں بہتری کا انحصار درآمدی کھیپوں، پائپ لائن گیس کی دستیابی اور ریگولیٹری نفاذ پر ہوگا۔
