عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعہ کو تیل کی تیز قیمتوں کے باعث دباؤ بڑھ گیا، جس سے بانڈز کی فروخت اور ایشیائی حصص میں کمی دیکھی گئی۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل ایک موقع پر چار ماہ کی بلند ترین سطح 109.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچا، تاہم بعد میں فروخت کے دباؤ سے اس میں کچھ کمی آئی اور قیمت تقریباً 107 ڈالر کے قریب رہی۔ اس کے باوجود ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ تقریباً 11 فیصد اضافے کی سمت میں تھا۔
توانائی کی قیمتوں میں اس اضافے کا مرکزی پس منظر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور اہم بحری راستوں میں رکاوٹیں ہیں۔ رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود رہی جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ اسی دوران ایران سے منسلک حوثیوں نے یمن کی بندرگاہ موچا پر کنٹرول حاصل کیا، جس سے بحیرہ احمر میں سعودی تیل کی برآمدات اور باب المندب کے بحری راستے کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا۔
تیل مہنگا ہونے سے سرمایہ کاروں نے اس امکان کو زیادہ اہمیت دینا شروع کی کہ بڑے مرکزی بینک مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مالیاتی پالیسی مزید سخت رکھ سکتے ہیں۔ امریکی دس سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 4.979 فیصد تک پہنچی، جو پانچ فیصد کی نفسیاتی حد کے قریب ہے، جبکہ 30 سالہ ییلڈ 5.3836 فیصد تک گئی۔ بانڈ ییلڈ بڑھنے کا مطلب عموماً بانڈ قیمتوں میں کمی ہوتا ہے اور اس سے قرض لینے کی لاگت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
ایشیا میں حصص بازار بھی دباؤ میں آئے، جبکہ امریکی ڈالر کو بلند بانڈ ییلڈ سے سہارا ملا۔ سرمایہ کار توانائی کی قیمت، مہنگائی اور شرح سود کے باہمی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ مسلسل مہنگا تیل کاروباری لاگت، نقل و حمل اور صارفین کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔
رائٹرز نے آر بی سی کی عالمی کموڈیٹی حکمت عملی کی سربراہ ہیلیما کرافٹ کے حوالے سے بتایا کہ باب المندب میں بحری ٹریفک کو بڑھتے خطرات درپیش ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ اگر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان وسیع جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو برینٹ کی قیمت سال کے بعد کے حصے میں مزید بلند ہو سکتی ہے۔ یہ ایک تجزیاتی تخمینہ ہے، یقینی نتیجہ نہیں۔ منڈیوں کی آئندہ سمت بڑی حد تک توانائی کی رسد، علاقائی کشیدگی اور مرکزی بینکوں کے ردعمل پر منحصر رہے گی۔




